ہنگاموں کا خوف، راشن کی خریداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور امیدواروں کے ساتھ ساتھ حکومتی ادروں کو بھی اٹھارہ فروری کا انتظار ہے کیونکہ وہ ان کی امیدوں کا دن ہے مگر عام آدمی انتخابات کے دن یا اس کے بعد ممکنہ ہنگاموں کے خوف میں مبتلا ہے۔ انتخابات کے دن یا اس کے بعد ممکنہ ہنگاموں یا ہڑتالوں کے خوف سے سکھر و لاڑکانہ سمیت اندرون سندہ کے اکثر شہروں میں عام لوگوں نے اشیاء خورد و نوش اپنے گھروں میں جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ سکھر کے اناج بازار میں چاول اور دالوں کا کاروبار کرنے والے حاصو مل سچدیو کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کئی گاہکوں نے اپنا راشن ڈبل کر دیا ہے۔انہیں خدشات ہیں کہ الیکشن کےبعد حالات کہیں زیادہ خراب نہ ہوجائیں۔ ستائیس دسمبر کےدن پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے مگر ان ہنگاموں کی شدت اندرون سندھ کے شہروں میں زیادہ دیکھنے کو ملی تھی۔ مسلسل تین دنوں تک شہروں میں جاری ہنگاموں کےدوران مارکیٹیں، دکانیں، بینک، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کے ساتھ سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش کر دی گئی تھیں۔ بینظیر بھٹو کی ہلا کت کے بعد اچانک پھوٹ پڑے ہنگاموں کے دنوں میں عام لوگوں کےگھروں میں اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ بعض لوگوں نے پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے ان دنوں میں راشن ادھار لیا تھا۔ الیکشن کےبعد ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے لوگوں نے مارکیٹ سے دودھ ، گھی، تیل، چاول، دال وغیرہ زیادہ مقدار میں جمع کیے ہیں مگر بعض لوگوں نے سبزیاں وغیرہ بھی جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔
سکھر کی مارکیٹ سے راشن جمع کرنےکے لیے آئے ہوئے ایک شہری نعیم احمد نے بتایا کہ بینظر صاحبہ کے قتل کے بعد ’ٹینشن ہی ٹینشن‘ ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہنگاموں اور ہڑتال کے دنوں میں بھوکے رہنے سے اچھا ہے کہ کچھ دنوں کا راشن اپنے پاس رکھ لیں۔اگر ہنگامے نہیں ہوتے تو راشن پھر بھی اپنے کام آئے گا۔ان کےمطابق الیکشن کے دن یا دوسرے دن انہیں ہنگاموں یا ہڑتال کا خطرہ لگتا ہے۔ ستائس دسمبر کےبعد سکھر کی قدیم وکٹوریہ فروٹ مارکیٹ کو بھی دیگر عمارات کےساتھ نذر آتش کردیا گیا تھا۔حال ہی میں بنی نئی دکانوں سے چند لوگ معمول سے زیادہ فروٹ خرید رہے تھے۔ ایک دکاندار فرید احمد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس شہر کے صاحب حیثیت لوگ اضافی خریداری کےلیے آرہے ہیں۔ فروٹ کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ان کے مطابق انہیں نہیں لگتا کہ الیکشن کے بعد ہنگامے یا ہڑتال ہوگی۔ان کی نظر میں پاکستان کی غیر یقینی حالات نے لوگوں کو پاگل کر دیا ہے ورنہ ہنگاموں کا امکان انہیں نظر نہیں آتا۔ لاڑکانہ کی مارکیٹوں میں شہر کےلوگوں نےاضافی خریداری کی ہے جبکہ دیہات میں رہنےوالے لوگوں نے مارکیٹوں سے اس قسم کی خریداری نہیں کی ہے۔ لاڑکانہ مارکیٹ کےایک کارباری حاجی حبیب کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ شہر کے لوگوں میں خوف ہے کیونکہ ستائس دسمبر کے بعد پورے شہر کو لوگوں نے جلا دیا تھا۔اس لیے شہر کےلوگوں نے اپنے پاس اضافی راشن جمع کرنا شروع کر دیا ہے مگر دیہات کے لوگوں نےاس قسم کی خریداری نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ شاید دیہاتی لوگوں کے پاس اپنی اشیاء خورد و نوش پہلے سےجمع ہوتی ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: تشدد اور انتخابی سرگرمیاں15 February, 2008 | پاکستان انتخابات کے خلاف پمفلٹ تقسیم14 February, 2008 | پاکستان پی پی، متحدہ تصادم، ایک ہلاک14 February, 2008 | پاکستان ’انتخابات میں حملے نہ کرنے کا اعلان‘13 February, 2008 | پاکستان انتخابی امیدوار پر حملہ، دو ہلاک 13 February, 2008 | پاکستان ’پاکستان بچانا ہےتو فوج کو جانا ہے‘12 February, 2008 | پاکستان ’جنوبی وزیرستان: انتخاب ناممکن ‘09 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||