BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 February, 2008, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی، متحدہ تصادم، ایک ہلاک

کراچی انتخابات
شاہ فیصل ٹاؤن میں واقع کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی اجتماعات کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں پی پی پی کا ایک کارکن ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے جبکہ ایم کیو ایم کا بھی ایک کارکن شدید زخمی ہوا ہے۔

زخمیوں کو جناح اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شاہ فیصل ٹاؤن میں پیش آیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

علاقے کے ٹاؤن پولیس آفیسر جاوید علی کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں دونوں جماعتوں کے اجتماعات تھے جس کے دوران فائر ہوا جس سے اشتعال پھیلا ۔ چونکہ دونوں جگہوں پر لوگ موجود تھے تو اس کے باعث بات بڑھ گئی۔‘

واقعے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو چھپن سے امیدوار اقبال محمد علی خان نے شاہراہ فیصل تھانے پر پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو تریپن سے امیدوار سید فیصل رضا عابدی کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

اس مقدمے میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سید اسرار شاہ، افتخار شاہ، مولائی عرف گڈو، حسرت اور رضوان کے خلاف بھی اقدام قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ اس مقدمے میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ایم کیو ایم کی کارنر میٹنگ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پارٹی کا ایک کارکن محمد دین شدید زخمی ہوگیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکنوں نے مقدمے میں نامزد ملزم رضوان کو پولیس کے حوالے بھی کیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر راشد ربانی نے ایم کیو ایم کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

’رضوان کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنا کر سخت زخمی کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے اس کو اپنی گاڑی میں ڈال کر جناح اسپتال پہنچایا جہاں وہ زیر علاج ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے قومی اسمبلی کے امیدوار مرزا مقبول اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار عامر شاہ کی انتخابی مہم کے سلسلے میں شاہ فیصل ٹاؤن میں کارنر میٹنگ ہورہی تھی جس پر حملہ ہوا۔

 کراچی میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اسکے باوجود کارکن صبروتحمل کے ساتھ پارٹی کی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی

’مرزا مقبول تقریر کرکے چلے گئے تھے اسکے بعد عامر شاہ تقریر ختم کرکے جیسے ہی سٹیج سے اترے مسلح افراد نے سٹیج کے پیچھے سے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پارٹی کے سات کارکن شدید زخمی ہوگئے جن میں شامل قیصر بنگش نے بعد میں اسپتال میں دم توڑ دیا۔‘

راشد ربانی کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد پی پی کارنر میٹنگ کے لئے لگائے گئے شامیانے اور سٹیج کے علاوہ وہاں کھڑی موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس مسلسل ان کی جانب سے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

’ہم پر امن لوگ ہیں اور انتخابات کو پرامن طور پر پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اسکے باوجود کارکن صبروتحمل کے ساتھ پارٹی کی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران حریف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان مسلح تصادم کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے چھ فروری کو سہراب گوٹھ کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر فضل الرحمن آکا خیل کو نامعلوم افراد نے گولیاں مارکر قتل کردیا تھا جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں حالات دو دن تک کشیدہ رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد