’ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیش نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی پابندی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں اس کی پاسداری کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد میں انتخابی کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی نہیں کر رہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار اس ضابطۂ اخلاق پر اس طرح عمل درآمد نہیں کر رہیں جیسا کہ ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتخابی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے پرامن اور سازگار ماحول مہیا کرے تاکہ ووٹر اپنے آئینی حق کا استعمال آزادی سے کر سکیں۔’سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس ضابطے کے بنیادی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے انتخابی کمیشن سے تعاون کریں۔‘ کنور دلشاد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر ضابطۂ اخلاق کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ وہ اس کا مطالعہ کر کے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ تاہم انتخابی کمیشن نے ان خلاف ورزیوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ کونسی جماعتیں خصوصاً کن اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہیں ہیں۔البتہ خیال ہے کہ انتخابی کمیشن نے اس اقدام سے اپنی بطور نگران ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر پوسٹر اور بینرز کے سائز سے لے کر انتخابی منشور کی بجائےحلقے کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کا وعدہ کرنے جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انتخابی عمل کے آغاز کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انتخابی کمیشن نے سیاسی جماعتوں پر اس قسم کا کوئی الزام لگایا ہو۔ | اسی بارے میں فوج اور عدلیہ تنقید سے مبرا24 October, 2007 | پاکستان ’التوا انتہائی افسوسناک اقدام‘02 January, 2008 | پاکستان ’پرویز الہیٰ، آج بھی عملاً وزیرِ اعلٰی‘14 January, 2008 | پاکستان اٹک: پرویز الہی پر بھرتیوں کا الزام21 January, 2008 | پاکستان سندھ، ووٹر زیادہ پولنگ سٹیشن کم 29 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||