فوج اور عدلیہ تنقید سے مبرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کےلیے عبوری ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے جس کے مطابق فوج، عدلیہ اور نظریہ پاکستان کے خلاف بات کرنے پر پابندی ہوگی۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ذاتیات سے ہٹ کر ایک دوسرے کے خلاف اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تنقید کا اختیار ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور محمد دلشاد نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں چھبیس نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کاپیاں گوشوارے جمع کرانے والی نوے سے زائد سیاسی جماعتوں کو ارسال کردی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ تین نومبر تک وہ اپنی تجاویز الیکشن کمیشن کو بھیجیں۔ جس کے بعد ان کے مطابق الیکشن کمیشن نیا ڈرافٹ تیار کرکے متعلقہ جماعتوں کے نمائندوں کو مدعو کرے گا اور ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائےگی۔ ایک سوال پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق عام انتخابات آئندہ سال جنوری کے پہلے ہفتے تک ہونا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات خاصی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہیں۔ مجوزہ ضابطے کے مطابق سرکاری فنڈز سے کوئی اشتہار جاری ہوگا اور نہ ہی ریاستی ذرائع ابلاغ کو کسی مخصوص جماعت یا فرد کے حق میں یا مخالفت میں پروپگینڈہ کی اجازت ہوگی۔ جب ان کی توجہ مرکزی اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے بیشتر ٹی وی چینلز اور اخبارات کو روزانہ بھاری مالیت کے اشتہارات جاری کرنے کی طرف دلوائی تو انہوں نے کہا کہ جب نئے ضابطہ اخلاق کا اطلاق ہوگا تو اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن سے جب دریافت کیا کہ ملک میں خود کش حملوں میں اضافے کی وجہ سے انتخابی مہم چلانا بظاہر مشکل لگتا ہے اور اس بارے میں انہوں نے کیا تدارک کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس نکتے پر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے لائحہ عمل بنایا جائےگا۔ سات صفحات پر مشتمل ضابطے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو ذرائع ابلاغ، ووٹرز یا مخالف امیدوار کو ڈرانے دھمکانے یا لالچ اور رشوت وغیرہ دینے پر پابندی ہوگی۔ مخالف امیدوار کے گھر کے باہر کسی کو بھی جلسہ کرنے کا اجازت نہیں ہوگی۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق پاکستان کے خارجہ تعلقات کو متاثر کرنے والا کوئی بیان یا عمل کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بیرونی ملک کے رہنما اور اور ان کے نظریات کے خلاف کوئی سخت بات کہنے کی بھی ممانعت ہے۔ مذہب، صنف، یا لسانی بنیاد پر کسی کے خلاف کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی عوامی جلسوں میں اسلحہ لایا جاسکے گا۔ ضابطے کی رو سے کوئی وزیر سیاسی مہم نہیں چلائے گا اور نہ ہی اپنا کوئی سرکاری دورہ اس مناسبت سے کرسکے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق زیادہ سے زیادہ رکن قومی اسمبلی کے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ روپے اور رکن صوبائی اسمبلی دس لاکھ روپے ہوگی۔ کوئی بھی امیدوار دو فٹ چوڑے اور تین فٹ لمبائی سے زیادہ کا پوسٹر استعمال نہیں کرے گا، ہورڈنگ کا زیادہ سے زیادہ سائز تین فٹ چوڑا اور پانچ فٹ لمبا، بینر کا سائز تین فٹ چوڑا اور نو فٹ لمبا جبکہ ہینڈ بل کا سائز نو انچ چوڑا اور چھ انچ لمبا ہوگا۔ نیا مجوزہ ضابطہ سن دو ہزار دو کے عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق سے کچھ زیادہ مختلف تو نہیں ہے لیکن ماضی میں جس طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا کم دکھائی دیا ہے۔ اب کی بار بھی الیکشن کمیشن کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل کرانا سب سے بڑا چیلینج ہوگا۔ واضح رہے کہ ماضی میں بیشتر اراکین اسمبلی الیکشن کمیشن میں تو اخراجات مقررہ حد تک ظاہر کرتے رہے ہیں لیکن کئی اقرار کرتے رہے ہیں کہ ایک سے دو کروڑ روپے کا خرچہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے لیے عام سی بات ہے۔ | اسی بارے میں وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب اخبارات میں07 October, 2007 | پاکستان صدارتی الیکشن پولنگ، فیصلہ بعد میں06 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب کے بعد جشن 06 October, 2007 | پاکستان ’انتخابات متاثر نہیں ہوں گے‘19 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||