BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انتخابات متاثر نہیں ہوں گے‘

شوکت عزیز
’انہیں بتایا تھا کہ خطرات ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو بینظیر نے کرنا تھا‘
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں اور موجودہ حالات کی وجہ سے عام انتخابات متاثر نہیں ہوں گے اور یہ اپنے وقت پر آئین اور قانون کے مطابق منعقد ہونگے۔

یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کراچی دھماکوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ مذمت واقعہ ہے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی تھی جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے کوشش کی تھی کہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد سکیورٹی خدشات کا خاتمہ کیا جائے اور سندھ کے سکیورٹی حکام پیپلز پارٹی سے رابطے میں تھے اور انہیں ریلی کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا کیونکہ خود کش حملوں کو روکنا ایک مشکل امر ہوتا ہے‘۔ شوکت عزیز نے کہا کہ ’ہم نے اپنی اطلاعات کی بنیاد پر انہیں بتایا تھا کہ خطرات موجود ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو بینظیر نے کرنا تھا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک آصف زرداری کے الزامات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں تحقیقات ہورہی ہے اور حتمی نتائج آنے تک کسی کا نام لینا مناسب عمل نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا کہ ’حکومت نے پیپلزپارٹی کو وراننگ دے دی تھی کہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنا پروگرام مؤخر کردیں اور جب اس مسئلہ کا حل نکال لیا جائے گا تو وہ تب آجائیں لیکن اس کے باوجود بینظیر نے آنے کا اعلان کر دیا تو انہیں تجویز دی گئی کہ وہ ایئرپورٹ سے مزار قائد کا سفر ہیلی کاپٹر سے کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر دو مقامات پر ہیلی پیڈ بھی بنا دیے گئے تھے تاکہ بینظیر جب چاہیں ان مقامات پر اتر کر اپنے استقبال کے لیے آنے والوں سے مل سکیں لیکن انہوں نے یہ منصوبہ بھی نہیں مانا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ بینظیر نے جن میجرجنرل ریٹائرڈ احسان کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری دی تھی وہ فوج کے ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں اور انہیں سکیورٹی کے معاملات کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔طارق عزیز نے کہا کہ ’چونکہ شو پیپلز پارٹی کا تھا اس لیے حکومت نے اسے روکنے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کی تھی‘۔

اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد