عمران خان ایک بار پھر سندھ بدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے تحریکِ انصاف کے رہنماء عمران خان پر ایک بار پھر سندھ میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے جس پر عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی طرح سندھ کی بھی حکومت بھی بظاہر نگران ہے مگر درپردہ یہ حکومتیں صدر مشرف اور اُن کے حامیوں کی ہی ہیں۔ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں پولیس نے جمعرات کے روز تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کراچی ایئرپورٹ سے باہر آنے سے روک لیا اور اگلی پرواز سے اُنہیں اسلام آباد روانہ کردیا، حکومت نے عمران خان پر سندھ میں داخلے پر دس یوم کے لئے پابندی عائد کی ہے۔ عمران خان جمعرات کے روز چار روزہ سیاسی دورے پر کوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے جنھیں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کراچی اور حیدرآباد میں الیکشن مخالف جلسوں کا انعقاد کرنا تھا۔اس سلسلے میں جمعہ کو حیدرآباد اور اتوار کے روز کراچی میں جلسہ ہونا تھا۔ واضع رہے کہ اے پی ڈی ایم نے موجودہ انتخابات کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ عمران حان نے کراچی ایئرپورٹ سے بذریعہ فون بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی قانون نہیں ہے صرف ڈکٹیٹر شپ ہے اور جو ڈکٹیٹر کے ساتھ ہے وہ جو چاہے کرے اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے صرف اور صرف متحدہ کے قائد الطاف حسین کے خلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس دائر کرنے کی سزا مل رہی ہے جس میں ہم نے ثابت کیا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ ملوث ہے۔ عمران خان نے اس کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم جولائی 2007 سے کیس کی تفتیش اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کی کوششیں کررہی ہے تاہم حکومت نے اُنہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی، اُن کا کہنا ہے کہ ہم ہر صورت اس کیس کی پیروی کریں گے اور اس کے لئے ہم گواہوں کو لندن لے جانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مزید تفصیلات ظاہر کر کے گواہوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ تحریکِ انصاف کے رہنماء نے موجودہ عدالتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا موجودہ ججز عدلیہ کے نہیں بلکہ صدر مشرف کے جج ہیں جن سے ہم کسی صورت رابطہ نہیں کریں گے، اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ عدلیہ غیر آئینی ہے۔ عمران خان پر گزشتہ سات ماہ کے دوران سندھ میں داخلے پر یہ تیسری بار پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم جب اس پابندی کی وجہ اور سرکاری موقف معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو سندھ اور کراچی پولیس کے سربراہ کے علاوہ نگران وزیرِ داخلہ اور سیکریٹری داخلہ سمیت کوئی متعلقہ سرکاری افسر دستیاب نہیں ہوسکا۔ | اسی بارے میں بینظیر قتل کیخلاف احتجاج کا اعلان02 January, 2008 | پاکستان اے پی ڈی ایم ریلی پر لاٹھی چارج07 January, 2008 | پاکستان ’نیشنل سکیورٹی کونسل ختم کریں‘ 22 January, 2008 | پاکستان ’جدو جہد اٹھارہ فروری کے بعد بھی‘03 February, 2008 | پاکستان انتخابات تو ڈھونگ ہیں: اپوزیشن 06 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||