’جدو جہد اٹھارہ فروری کے بعد بھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں پنجاب کے شہر فیصل آباد کے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات اس لیے ہورہے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو برطرف کرنے کے اقدام کو تحفظ دلوایا جائے۔ قاضی حسین احمد نے اتوار کو فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ کے باہر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران وفاقی وزیر نثار میمن نے تین نومبر والے اقدامات پھر سے نافذ کرنے کی دھمکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ آئین کا تقاضہ ہے۔ ان کے بقول فوجی چھاؤنیوں میں محفوظ نہیں ہیں اس لیے استحکام پیدا کرنے کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے اس سے استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم کی جدوجہد صرف اٹھارہ فروری تک محدود نہیں بلکہ انتخابات کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججوں کی بحالی کی تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدالتوں کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا اور آزاد عدلیہ کے بغیر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ عمران خان نے اس بات حیرت کا اظہار کیا کہ ایک طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں اور دوسری جانب ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جس کا فائدہ صدر مشرف کو ہوگا۔ ایم پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کا مقصد انتشار پھیلانا نہیں بلکہ ملک کو درپیش حالات سے نجات دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار آزاد عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بات ہورہی ہے۔ جلسے سے عبدالحئی بلوچ، عابد حسن منٹو اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم01 January, 2008 | پاکستان اے پی ڈیم ایم اپیل ’الیکشن بائیکاٹ‘24 December, 2007 | پاکستان ’بائیکاٹ جذباتی فیصلہ ثابت ہوا‘10 December, 2007 | پاکستان پاکستان: ’منصفانہ الیکشن کے آثار کم‘17 January, 2008 | پاکستان ’قبل از الیکشن عمل غیر منصفانہ‘10 January, 2008 | پاکستان ایمرجنسی کا خاتمہ نہیں ہوا: نواز01 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||