BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 January, 2008, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نیشنل سکیورٹی کونسل ختم کریں‘

محمود خان اچکزئی
’سیاسی جماعتوں کی مرضی سے عبوری قومی حکومت تشکیل دی جائے‘
سیاسی اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ کے قائدین نے نیشنل سکیورٹی کونسل کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے یہ مطالبہ بلوچستان کے شہر لورالائی سے انتخابات کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے دوبارہ آغاز کے موقع پر کیا۔

بےنظیر بھٹو کی ہلاکت اور عاشورۂ محرم کے بعد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا لورالائی میں یہ پہلا جلسہ تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

تحریک میں شامل جماعتوں کے قائدین پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی، تحریک انصاف کے ایڈمرل ریٹائرڈ جاوید اقبال اور دیگر نے خطاب کیا۔

محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اپیل کی ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کو ختم کرنے کا اعلان کریں اور صدر پرویز مشرف مستعفی ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی مرضی سے ایک عبوری قومی حکومت تشکیل دی جائے۔

 امریکہ اپنے ملک میں تو ایک جج کے فیصلے پر صدر کو ہٹا دیتا ہے لیکن پاکستان میں جج قید ہیں اور امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس پر خاموش ہیں۔امریکہ کو پانچ جنرلوں اور سولہ کروڑ عوام میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا
محمود خان اچکزئی

ان کا کہنا تھا کہ آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے اور پھر اس کے نتیجے میں جو بھی جماعت جیتے اسے اقتدار سونپا جائے لیکن فوج اور جاسوسی اداروں کا اس میں کوئی کردار نہ ہو۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ’امریکہ اپنے ملک میں تو ایک جج کے فیصلے پر صدر کو ہٹا دیتا ہے لیکن پاکستان میں جج قید ہیں اور امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس پر خاموش ہیں۔امریکہ کو پانچ جنرلوں اور سولہ کروڑ عوام میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا‘۔

ڈاکٹر عبدالحئی اور جہانزیب جمالدینی نے اپنی تقاریر میں کہا کہ آئین بحال کیا جائے، بلوچستان میں جاری آپریشن بند کیا جائے اور سردار اختر مینگل سمیت دیگر بلوچ قائدین کارکنوں اور لوگوں کو رہا کیا جائے۔ تحریک میں شامل جماعتوں کے قائدین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی پولنگ کے دن خود ووٹ ڈالنے جائیں ۔

انتخابات کے خلاف اے پی ڈی ایم کی ریلیاں تو جاری ہیں لیکن بلوچستان میں انتحابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی سرگرمیاں کم ہی نظر آتی ہیں امیدوار انفرادی سطح پر یا جماعت کے بنیاد پر محدود سطح پر ہی اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
الیکشن بائیکاٹ مہم کا آغاز
18 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد