BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 January, 2008, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے پی ڈی ایم ریلی پر لاٹھی چارج

اے پی ڈی ایم ریلی
پولیس نے دو درجن سے زائد سیاسی کارکن گرفتار کر لیے
کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے یوم سیاہ کے موقع پر احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے اور دو درجن سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اے پی ڈی ایم نے بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف ملک گیر یوم سیاہ کے موقع پر کراچی میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا جہاں پہلے سے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔

جونہی مظاہرہ کرنے کی غرض سے اے پی ڈی ایم میں شامل جماعت پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک درجن کے قریب کارکن وہاں پہنچے تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ کچھ ہی دیر بعد لگ بھگ مزید سو ڈیڑھ سو کارکن پہنچ گئے جنہوں نے حکومت مخالف نعرے لگانا شروع کر دیے۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرے کے قائدین سے کہا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے لہذا وہ پرامن طور پر منتشر ہوجائیں مگر اسی دوران انہوں نے وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت شروع کردی۔

اے پی ڈی ایم ریلی
پورے ملک میں سیاسی کارکنوں نے یوم سیاہ منایا

مظاہرے کی قیادت کرنے والے پختونخوا ملی عوامی پارٹی سندھ کے نائب صدر زرین خان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے ان کے احتجاج کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کی ہے۔

’ہمیں اگر یہ پتہ ہوتا کہ 144 نافذ ہے تو ہم احتجاج نہیں کرتے لیکن ہمیں تو ابھی یہ بتا رہے ہیں کہ آج 144 لگا دیا گیا ہے اور اگلے ماہ کی دو تاریخ تک لگا رہے گا، ہم پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جو ہمارا جمہوری حق ہے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پرویز مشرف فوری طور پر اقتدار چھوڑ دیں اور واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کرائی جائیں۔ انہوں نے 18 فروری کو ہونے والے انتخابات کو فراڈ قرار دیا اور انہیں ملتوی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

’ہمیں خطرہ ہے کہ اس الیکشن کی بنیاد پر اس دھرتی پر مزید خون بہانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

ابھی زرین خان بات کر ہی رہے تھے کہ ایک پولیس افسر نے آکر انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے مظاہرہ ختم نہ کیا تو وہ اپنی کارروائی شروع کردیں گے اور پھر جونہی مظاہرین نے دوبارہ حکومت مخالف نعرے بلند کرنا شروع کیے تو پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ اس دوران بھگدڑ مچ گئی اور پولیس نے مزید ایک درجن سے زائد کارکنوں کو مارتے پیٹتے حراست میں لے لیا۔

اے پی ڈی ایم ریلی
کراچی میں پہلے پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا

حیدرآباد سے ہمارے ساتھی علی حسن کے مطابق حیدرآباد اور اندرون سندھ کے دیگر مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے اور اجتماعات منعقد ہوئے جس سے خطاب کرتے ہوئے اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے بینظیر بھٹو کے قتل کو جمہوریت کا قتل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات اقوام متحدہ کی زیرنگرانی کمیشن سے کرائی جائے۔ مظاہرین نے پرویز مشرف سے فوری مستعفی ہونے اور تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ اور میڈیا کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔

صوبہ بلوچستان میں بھی یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کوئٹہ میں بارش اور شدید سردی کے دوران اے پی ڈی ایم کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں سے کہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ چمن، پشین، لورالائی، نوشکی اور خاران میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ لاہور پریس کلب میں اے پی ڈی ایم کی جانب سے بینظیر بھٹو کی یاد میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا اور بعد پریس کلب کے باہر ہی احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مشرف اور ان کی قائم کردہ نگراں حکومتیں اقتدار چھوڑ دیں اور تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے قومی حکومت تشکیل دی جائے جو آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور پریس کلب میں اے پی ڈی ایم کے زیراہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا جس سے اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے صوبائی رہنماؤں نے موجودہ حکومت کو بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر استعفی دیدیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اے پی ڈی ایم کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے انتخابات ملتوی کرنے کے علاوہ تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی اور پرویز مشرف سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

پرویز الٰہیپنجاب بھر میں تشدد
بے نظیر کے قتل پر مسلم لیگ ق حملوں کی زد میں
آصف زرداری کا سفرآصف زرداری کا سفر
پیپلز پارٹی کی سٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے
مشرف’الیکشن، نو الیکشن‘
بے نظیر بھٹو کا قتل اور صدر مشرف کی مشکلات
بینظیر، سوگ، احتجاج جاریچوتھا دن
بینظیر، سوگ، احتجاج جاری
بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
اسی بارے میں
الیکشن ملتوی ہونے کا امکان
01 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد