وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | جنوری انیس سو پینسٹھ کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کو ایک اور مدت کے لئے صدر منتخب کیا |
پاکستان کے انتخابات کی تاریخ پاکستان سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے جب دسمبر انیس سو پینتالیس میں جداگانہ بنیادوں پر ہندوستان کی مرکزی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور کانگریس نے اسی فیصد سے زائد غیر مسلم نشستیں اور مسلم لیگ نے تیس کی تیس مخصوص مسلم نشستیں پاکستان کے نام پر جیت لیں۔ اسکے علاوہ مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کو چھوڑ کر دیگر مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی اچھی خاصی نشستیں حاصل کرلیں۔ لیکن یہ انتخابات ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر نہیں تھے۔ بلکہ ووٹر بننے کے لئے صاحبِ جائیداد یا ٹیکس دھندہ ہونے کی شرط تھی۔ہر ایرا غیرا ووٹ نہیں دے سکتا تھا۔ پاکستان کی پہلی انہتر رکنی قانون ساز اسمبلی انہی مسلم اور چند مقامی غیر مسلم نمائندوں کو ملا کر بنائی گئی تھی۔ ان میں سے چوالیس کا مشرقی بنگال سے، سترہ کا مغربی پنجاب سے ، چار کا سندھ سے، تین کا صوبہ سرحد سے اور ایک کا کوئٹہ میونسپلٹی سے تعلق تھا (اس وقت بلوچستان کا وجود نہیں تھا۔اور ریاست قلات پاکستان میں شامل نہیں تھی)۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے انتخابات مارچ انیس سو اکیاون میں پنجاب اسمبلی کی ایک سو ستانوے نشستوں کے لئے ہوئے۔جن میں سات جماعتوں نے حصہ لیا اور ووٹرز لسٹ میں صرف ایک ملین ووٹر تھے۔ لیکن ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح تیس فیصد سے بھی کم رہی۔ دسمبر انیس سو اکیاون میں سرحد اسمبلی کے، مئی تریپن میں سندھ اسمبلی کے انتخابات ہوئے جن میں مسلم لیگ کو اکثریت حاصل ہوئی۔ البتہ اپریل انیس سو چون میں جب مشرقی پاکستان اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو بنگالی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد جگتو فرنٹ کے ہاتھوں مسلم لیگ کو پہلی بھر پور انتخابی زک پہنچی کیونکہ مسلم لیگ بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے کے حق میں نہیں تھی۔  | پہلا جھرلو  انیس سو چھپن میں انتخابی اصلاحات کی تجاویز دینے والے سرکاری کمیشن نے اعتراف کیا کہ پاکستان بننے کے بعد سات برس کے عرصے جتنے بھی صوبائی انتخابات ہوئے وہ جعلسازی، فراڈ اور مذاق سے زیادہ نہیں تھے  |
انیس سو اکیاون سے چون تک کے عرصے میں ہونے والے ان انتخابات کا معیار کیا تھا اسکا اندازہ جھرلو کی اصطلاح سے ہوسکتا ہے جو پہلے پہل پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کی نشاندھی کے لئے استعمال ہوئی۔ انیس سو چھپن میں انتخابی اصلاحات کی تجاویز دینے والے سرکاری کمیشن نے اعتراف کیا کہ پاکستان بننے کے بعد سات برس کے عرصے جتنے بھی صوبائی انتخابات ہوئے وہ جعلسازی، فراڈ اور مذاق سے زیادہ نہیں تھے۔ اور پھر انہی منتخب صوبائی اسمبلیوں نے انیس سو چون میں پاکستان کی دوسری مجلسِ قانون ساز تشکیل دی جس نے ون یونٹ نظام کے تحت انیس سو چھپن کا پہلا آئین بنایا۔ یہ اسمبلی اسی ارکان پر مشتمل تھی یعنی ملک کے دونوں حصوں سے چالیس چالیس ارکان لیے گئے تھے۔ آئین کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ ایک تین رکنی الیکشن کمیشن تشکیل دیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ الیکشن کمیشن انتخابات کرا پاتا۔ صدر میجر جنرل سکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کی مدد سے سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو مارشل لا لگا کر آئین، اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو ہی لپیٹ دیا۔اور پھر بیس روز بعد جنرل ایوب نے سکندر مرزا کی بساط لپیٹ دی۔بہت سے سیاستداں اور اسمبلی ارکان کو سات برس کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ایک اور آئینی کمیشن بنا جس نے سن باسٹھ کا صدارتی آئین بنایا۔ بنیادی جمہوریت کے انتخابات انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت ایک سو چھپن ارکان پر مشتمل جو قومی اسمبلی تین برس کے لئے وجود میں آئی، اس کا چناؤ عوام نے نہیں بلکہ صدر ایوب کے بنیادی جمہوریتی نظام کے تحت عوامی ووٹ سے بننے والے اسی ہزار بیسک ڈیموکریٹس نے کیا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کرکے اسمبلی کے ارکان کی تعداد دو سو اٹھارہ اور الیکٹورل کالج ( بیسک ڈیموکریٹس) کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک کر دی گئی۔  | لبرل جنرل؟  ایوب خان جنہیں عام طور پر ایک لبرل اور سیکولر شخصیت سمجھا جاتا تھا انہوں نے کئی علماء سے عورت کے سربراہ مملکت ہونے کے خلاف فتوی لیا۔جبکہ جماعتِ اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی  |
انہی بیسک ڈیمو کریٹس نے جنوری انیس سو پینسٹھ کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کو ایک اور مدت کے لئے صدر منتخب کیا۔ایوب خان اس دوڑ میں مسلم لیگ کنونشن کے حمائیت یافتہ تھے۔جبکہ فاطمہ جناح کی حمائیت کمبائینڈ اپوزیشن پارٹیز نامی پانچ جماعتی اتحاد کررھا تھا۔الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے لئے ایک ماہ کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوا کہ عام لوگ فاطمہ جناح کو سننے کے لئے جوق در جوق آ رہے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن نے ہر فریق کے لئے زیادہ سے زیادہ نو پروجیکشن میٹنگز منعقد کرنے کی حد لگادی ۔جن میں صرف الیکٹورل کالج کے بیسک ڈیموکریٹس یا صحافی شریک ہو سکتے تھے۔عوام کو ان اجلاسوں میں آنے کی ممانعت تھی۔ عجیب بات ہے کہ ایوب خان جنہیں عام طور پر ایک لبرل اور سیکولر شخصیت سمجھا جاتا تھا انہوں نے کئی علماء سے عورت کے سربراہ مملکت ہونے کے خلاف فتوی لیا۔جبکہ جماعتِ اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ ایوب خان کو یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ وہ باسٹھ کے آئین کے تحت اسوقت تک صدر رہ سکتے تھے جب تک انکا جانشین منتخب نہ ہوجائے۔ چنانچہ ایوب خان بحثیت صدر پوری سرکاری مشینری اور ہر طرح کا دباؤ برتنے کے بعد حسبِ توقع بھاری اکثریت سے فاطمہ جناح کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔اسکے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں جو مایوسی پھیلی اس نے تین برس بعد ایوب خان کے خلاف بھرپور ملک گیر ایجی ٹیشن کی بنیاد رکھ دی۔ |