اشتہارات کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جمہوری اقدار اور نظام پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’سینٹر فار سوِک ایجوکیشن‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں دعوٰٰی کیا ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات کی اشتہاری مہم میں جو رقوم خرچ کی ہیں وہ ان کی اعلان شدہ سالانہ آمدن اور اثاثوں سے کئی گنا زیادہ ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسے اخراجات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ قاف اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ناصرف جھنڈوں، پوسٹررز، بینرز، جلسے جلوسوں اور اخبارات کے ذریعے ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کا روایتی طریقہ اپنایا بلکہ اس دفعہ پاکستانی سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز بھی لمحہ بہ لمحہ پارٹی لیڈروں اور ان کے مبینہ کارناموں کے رنگا رنگ میوزیکل اشتہارات سے بھرپور نظر آئے۔ ’سینٹر فار سوِک ایجوکیشن‘ نے سیاسی مہمات کے انہی اخرجات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ سی سی ای پی نے ٹی وی پر سیاسی پارٹیوں کے اشتہاری اخراجات کا جو تخمینہ لگایا ہے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے تنظیم کے ڈائریکٹر ظفراللہ خان کا کہنا ہے کہ’سیاسی جماعتوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر اشتہارات میں تقریباً ساڑھے چوبیس کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ قاف لیگ نے پی ٹی وی سمیت چونتیس نجی ٹی وی چینلز پر ایک سو پانچ گھنٹے کے دورانیے کے بارہ ہزار دو سو اٹھہتر اشتہارات دیے۔ چینلز کے معیاری ٹیرف کے لحاظ سے ان اشتہارات پر ساڑھے سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے‘۔ ظفراللہ خان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) ٹی وی پر اشتہاری خرچ کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہی اور اس نے ساڑھے سترہ گھنٹوں کے دورانیے کے چار سو تریسٹھ اشتہارات پر تقریباً اڑھائی کروڑ روپے خرچ کیے۔ نواز لیگ کے اشتہارات پی ٹی وی سمیت سترہ ٹی وی چینلز سے نشر ہوئے۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی اشتہار سرکاری ٹی وی پر تو نہیں آیا تاہم اس نے انیس نجی ٹی وی چینلز پر ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے دورانیے کے دو ہزار تین سو تینتالیس اشتہارات پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کیے۔ عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، دیگر چھوٹی جماعتوں اور ازخود الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اشتہارات بھی سرکاری و نجی ٹی وی چینلز پر دیکھنے کو ملے اور ان کا مجموعی خرچ بھی کروڑوں روپوں میں ہے۔ پاکستان میں پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دو ہزار دو کے تحت تمام سیاسی جماعتیں ہر سال جون کے اختتام پر اپنی آمدن، اخراجات اور اثاثوں کے گوشوارے الیکشن کمیشن کو جمع کروانے کی مجاز ہیں۔ سینٹر فار سِوِک ایجوکیشن کا مطالعہ اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ دو ہزار آٹھ کی انتخابی مہم میں محض ٹی وی اشتہارات پر بڑی سیاسی جماعتوں نے جو رقوم خرچ کی ہیں وہ ان کی جون دو ہزار آٹھ میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی سالانہ آمدن سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ مثلاً قاف لیگ کے ٹی وی اشتہارات کا تخمینہ تقریباً ساڑھے سترہ کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ دو ہزار سات تک اس کی آمدن صرف ساڑھے چار کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین نے اپنے اثاثوں اور آمدن کے برخلاف ٹی وی پر انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کیے۔
سینٹر فار سِوِک ایجوکیشن نے اپنی تحقیق میں اس پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے کہ دسمبر سے فروری تک پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی پر اشتہارات کے علاوہ خبروں میں صدرِ پاکستان ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف، نگران وزیرِ اعظم محمد میاں سومرو اور سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کو گھنٹوں کے حساب سے وقت دیا گیا جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں اور لیڈر اس سرکاری سہولت سے نسبتاً کافی حد تک محروم رہے۔ صرف بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے دنوں میں پی ٹی وی پر پاکستان پیپلز پارٹی کی کوریج کا گراف بڑھتا ہوا نظر آیا۔ یاد رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دو ہزار دو کے تحت سیاسی جماعتیں کوئی غیر قانونی عطیات موصول نہیں کر سکتیں اور نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ نگران حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی کوریج کے توازن کو برقرار رکھیں۔ پاکستان میں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے لیکن اس سارے مرحلے میں الیکشن کمیشن یا نگران حکومت کی جانب سے کوئی ایسی ہدایات سامنے نہیں آئیں جن میں میڈیا خصوصاً پاکستان ٹیلی ویژن کو کوریج کا توازن برقرار رکھنے کو کہا گیا ہو بلکہ پی ٹی وی نے تو قاف لیگ کی کثیر کوریج پر تنقید کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انتخابات کے فوراً بعد تو شاید اس سوال کا جواب نہ مل سکے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس اچانک اتنا پیسہ کہاں سے آیا تاہم جون دو ہزار آٹھ میں الیکشن کمیشن پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہو گی کہ وہ تمام جماعتوں کے پچھلے سال کے اثاثوں، رواں سال کی آمدن، ذرائع آمدن اور اخراجات کی جوابدہی طلب کرے۔ | اسی بارے میں غلطی کا اعتراف معذرت سے انکار02 February, 2008 | پاکستان پاکستان مسلم لیگ کا اشتہار اور قومیتیں 05 January, 2008 | پاکستان ’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘04 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||