غلطی کا اعتراف معذرت سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے تسلیم کیا ہے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہارات غلط تھے تاہم انہوں اس پر سندھ کے عوام سے معذرت کرنے سے انکار کیا ہے۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے آج کراچی کا پہلا دورہ کیا اور انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ صوبائی دارلحکومت میں منعقد اس جلسے میں کارکنوں کی شرکت حیران کن طور پر کم تھی، سندھ میں مسلم لیگ ق کا یہ پہلا جلسہ تھا جس سے مرکزی قائدین چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے خطاب کیا۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ اٹھارہ فروری کو سندھ میں ایک نیا سورج طلوع ہوگا اور یہاں مسلم لیگ ق کی حکومت ہوگی اور ارباب غلام رحیم سندھ میں وزیراعلیٰ ہوں گے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی جماعت وراثتی سیاست کے خلاف ہے، ان کے پارٹی منشور میں یہ شامل ہے کہ کوئی بھی دو مرتبہ سے زائد پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا ہے ’ورنہ یہاں تو بچے کے پیدا ہوتے ہی اسے چئرمین بنادیا جاتا ہے‘۔ جلسے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں اور اگر انہیں ملتوی کرنے کی کوشش کی تو ان کی جماعت اس کی مزاحمت کرے گی۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ ق کی جانب سے مبینہ طور تعصب انگیز اشتہارات کی اشاعت کو انہوں نے غلطی قرار دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس پر سندھ کے عوام سے معذرت کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں سے معافی مانگتے ہیں’اسے ہی معافی سمجھ لیں‘۔ واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والی ہنگامہ آرائی کے بعد مسلم لیگ ق کی جانب سے اخبارات میں اشتہارت شائع کیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں پنجابی آباکاروں، بلوچوں اور مہاجروں کو نشانہ بنایا گیا اور مسلم لیگ ق نے شکایت وصول کرنے کے لیے سیل بنایا ہے اور سندھ سے نقل مکانی کرکے آنے والے پنجابی آبادکاروں کے لیے کیمپ لگائے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اندرون سندھ انتخابی جلسوں سے بھی خطاب کریں تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں ارباب غلام رحیم دیکھ لیں گے۔ چودھری شجاعت حسین سنیچر کو لندن سے واپس وطن پہنچے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان کی لندن میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں انہوں نے اتفاق کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کا کہنا ہے تھا کہ ان کی جماعت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی رہی ہے دوسری جماعتوں کو بھی اس روایت کو اپنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹے، بجلی اور گیس کے بحرانوں سے ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے’لوگوں نے پیسہ کھایا لوٹ مار کی کبھی اس کو تسلیم نہیں کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، ہم تسلیم کرتے ہیں، نالائقیوں سے ہمیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا ہے ہم میں اتنی اخلاقی جرات تھی، ہم نے یہ باتیں صدر مشرف کو بھی کہی ہیں‘۔ مشاہد حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ متنازعہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر ان کے پارٹی منشور میں ہی شامل نہیں ہے، یہ ایک پرانا قصہ ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کے برطانوی حکومت نے چودھری وجاہت حسین اور ان کے بیٹے کو روکنے پر چودھری شجاعت حسین سے معذرت کی ہے۔ |
اسی بارے میں انتخابات شیڈول پر ہوں: شجاعت21 January, 2008 | پاکستان ’چوہدری شجاعت کا بیان پاگل پن‘22 October, 2007 | پاکستان ایم کیو ایم شجاعت ملاقات01 September, 2007 | پاکستان چودھری شجاعت کے خلاف مظاہرہ11 May, 2007 | پاکستان پنجاب: مسلم لیگ قاف پر حملے27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||