’احمدیوں کےاشتہار قیمتاً بھی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے قومی اخبارات نے ان کی جماعت کے عام انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے جو وہ قیمتاً بطور اشتہار شائع کروانا چاہتے تھے۔ جماعت احمدیہ نےاخبارات کے اس رویہ کواس تعصب کا حصہ قرار دیا ہے جو ان کے بقول جماعت احمدیہ کے خلاف عمومی طور پر پاکستان میں ان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات میں احمدیوں کے لیےالگ سے فہرستیں جاری کی گئی ہیں جو ان کے بقول آئین پاکستان اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان میں احمدیوں کو ملکی دھارے سے الگ رکھنے اور احمدیوں کو سیاسی طور پر بے اثر اور نہتا بنانے کی کوشش قرار دیا۔ جماعت احمدیہ نے اس بارے میں الیکشن کمشن اور ایوان صدر کو تحریری طور پر آگاہ کیا اور انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ جماعت احمدیہ کا لاتعلقی کے اعلان پر مبنی اشتہار اردو کےصرف ایک اور انگریزی کےدو اخبارات نے شائع کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے باقی میڈیا نے، جسے آزاد میڈیا کہا جاتاہے، اس اعلان کو قیمتاً بھی شائع کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ جماعت احمدیہ نے سنہ دوہزار سات کے لیےجاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس برس ایک ہزار ایسی خبریں شائع ہوئیں جو ان کے بقول احمدیوں کے خلاف پروپیگنڈے پر مبنی تھی۔ سنہ دوہزار سات میں احمدیہ پریس کےخلاف بے بنیاد مقدمات کاسلسلہ جاری رہا اور ضلع خوشاب میں احمدی بچوں کے لیے شائع ہونے والے ایک رسالے کی خریداری پر دو بچوں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس برس ربوہ میں جہاں پچانوے فی صد احمدی آباد ہیں جماعت احمدیہ پراپنا سالانہ جلسہ یا اجتماع کرنےپر پابندی لگا دی گئی جبکہ احمدیوں کے خلاف ختم نبوت تحریک کے افراد کو باہر سے لوگ لاکر جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی۔ جماعت احمدیہ کا ترجمان سلیم الدین کا کہناہے کہ اس برس محض عقیدہ کی بنیاد پر پانچ احمدیوں کو قتل کیا گیا جن میں کراچی کے دو ڈاکٹروں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار سات کے دوران چھتیس احمدیوں کےخلاف مقدمات درج کیےگئے اور بیشتر مقدمات تعزیرات پاکستان کی توہین رسالت و مذہبی عقائد کی دفعات دو سو پچانوے اے بی اور سی کے تحت درج کیے گئے۔ پاکستان کی پارلیمان نے اپریل سنہ انیس سو چوہتر میں جماعت احمدیہ اراکین کو غیر مسلم قرار دیدیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد سے احمدیوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ان کےبقول اس کے وقت سے لیکر دسمبر سنہ دوہزار سات تک ستاسی احمدیوں کو مذہب کی بنیاد پر قتل کیا گیا اور احمدیوں کے خلاف ساڑھے تین ہزار مقدمات درج ہوئے جن میں سےدوسو چھتیس توہین رسالت کے ہیں۔تعزیرات پاکستان کے مطابق توہین رسالت کی سزاموت ہے۔ | اسی بارے میں ’احمدی آسان ہدف بن چکے ہیں‘ 07 May, 2007 | پاکستان احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال09 March, 2007 | پاکستان احمدی رپورٹ، منافرت مہم08 March, 2006 | پاکستان منڈی بہاؤالدین: احمدی مسجد پر حملہ07 October, 2005 | پاکستان ربوہ میں اخبارات کے خلاف کارروائی06 August, 2005 | پاکستان جماعت احمدیہ کا اردو پریس پر تعصب کا الزام08 February, 2005 | پاکستان توہین اسلام: شادی کارڈ پر مقدمہ06 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||