BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’احمدی آسان ہدف بن چکے ہیں‘
احمدیوں کا قتل(فائل فوٹو)
جماعت احمدیہ نے 2006 کو احمدیوں کے لیے تعصب کا سال قرار دیا
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے والے گروپوں سے نرمی نہ برتے۔

تنظیم کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت کو ایسے قوانین کو منسوخ کر دینا چاہیے جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہیں۔

ایڈمز کے مطابق’ پاکستانی حکومت کا توہینِ رسالت کے قانون کا احمدیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف مسلسل استعمال اس کے ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا’ مشرف حکومت کو ان اسلامی انتہاپسند گروپوں سے نرمی روا نہیں رکھنی چاہیے جو احمدیوں کے خلاف تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے خیالات کو بھڑکاتے ہیں‘۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ’پاکستان میں مذہبی اور سیاسی عدم استحکام کے دور میں احمدی ایک آسان ہدف بن چکے ہیں کیونکہ حکومت انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے‘۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پاکستان میں پولیس احمدیوں کے خلاف گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے کسی بھی ملزم کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے جبکہ گزشتہ سات برس میں قریباً تین سو پچاس احمدیوں پر توہینِ رسالت سمیت مختلف جرائم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی جن میں سے متعدد افراد اب عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں یا سزائے موت کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں
سلام کہنے پر دو سال سزا
05 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد