’احمدی آسان ہدف بن چکے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے والے گروپوں سے نرمی نہ برتے۔ تنظیم کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت کو ایسے قوانین کو منسوخ کر دینا چاہیے جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہیں۔ ایڈمز کے مطابق’ پاکستانی حکومت کا توہینِ رسالت کے قانون کا احمدیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف مسلسل استعمال اس کے ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا’ مشرف حکومت کو ان اسلامی انتہاپسند گروپوں سے نرمی روا نہیں رکھنی چاہیے جو احمدیوں کے خلاف تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے خیالات کو بھڑکاتے ہیں‘۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ’پاکستان میں مذہبی اور سیاسی عدم استحکام کے دور میں احمدی ایک آسان ہدف بن چکے ہیں کیونکہ حکومت انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے‘۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پاکستان میں پولیس احمدیوں کے خلاف گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے کسی بھی ملزم کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے جبکہ گزشتہ سات برس میں قریباً تین سو پچاس احمدیوں پر توہینِ رسالت سمیت مختلف جرائم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی جن میں سے متعدد افراد اب عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں یا سزائے موت کے منتظر ہیں۔ | اسی بارے میں ’احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال‘10 March, 2007 | پاکستان احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال09 March, 2007 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی کا ایک اور مقدمہ29 June, 2006 | پاکستان سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ25 June, 2006 | پاکستان احمدیوں کا قتل: دو ملزم گرفتار19 July, 2006 | پاکستان آٹھ احمدیوں کا قتل، ملزم بری15 July, 2006 | پاکستان سلام کہنے پر دو سال سزا05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||