قرآن کی بے حرمتی کا ایک اور مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں مشتعل افراد نے ایک نوجوان کو پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی پولیس نے موقع پر پہنچ اس کی جان تو بچالی لیکن اسےگرفتار کرکے اس کے خلاف توھین مذہبی عقائد کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں فتومنڈ کے اس نوجوان پر الزام ہے کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مبینہ طور پر قرآن پاک کو آگ لگا رہا تھا جب مقامی لوگوں نے گھر کا دروازہ توڑکر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور مارتے ہوئے ایک قریبی دکان پر لے گئے۔ پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے اسے پر پٹرول چھڑک دیا لیکن آگ لگائے جانے سے پہلے ہی وہ خود کو چھڑا کر مقامی ناظم کے ڈیرے میں گھس گیا جہاں پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔ پولیس نوجوان کو تھا نے لے گئی تو مشتعل افراد نے تھانے کا گھیراؤ کر لیا پولیس حکام نے ملزم کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین منتشر ہوگئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اروپ ٹاؤن شیخ صدیق نے مقامی اخبارنویسوں کو بتایا کہ ملزم نے پولیس کو بیان قلمبند کرایا ہے کہ اسے اپنی بہن کے کردار پر اعتراض تھا اور وہ نہیں چاہتا کہ مقدس کتاب اس کے کمرے میں رہے۔ پاکستانی پنجاب میں دو ہفتوں کےدوران قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے واقعات پر پرتشدد مظاہروں کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے حاصل پور میں دو افراد کو تشدد کر کے ہلاک کیا جاچکا ہے جبکہ ڈسکہ میں احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔ | اسی بارے میں توہین رسالت کا الزام، گرفتاری14 March, 2006 | پاکستان قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل16 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان ’توہینِ قرآن‘ کا دوسرا ملزم ہلاک24 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||