سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے نواح میں مبینہ طور پر قرآن پاک کے اوراق جلائے جانے کے الزام پر مقامی افراد نے احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی املاک پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی ہے۔ پولیس نےجماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سیالکوٹ کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر طارق کھوکھر نے کہا ہے کہ احمدی جماعت کے کارکنوں کے خلاف توہین مذہبی عقائد کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جارہا ہے تاہم اس مقدمہ میں توڑپھوڑ اور مظاہرے کا ذکر بھی کیا جائے گا۔ ڈسکہ کے اس گاؤں میں احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے چند درجن افراد رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احمدی جماعت کے ایک رکن کے گھر میں قرآن پاک کے چند اوراق کو نذر آتش کا جارہا تھا کہ ایک ہمسائی خاتون نے دیکھ کر شور مچا دیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق ایک آدمی نے مقامی میلے میں جاکر بلا تحقیق قرآن پاک کو شہید کیئے جانے کا اعلان کر دیا تھا جس پر ہجوم نے ان کے کارکنوں کےگھروں اور دکانوں پر حملہ کر دیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق دو دوکانوں اور ایک سے زائد مکان کو نذر آتش کیا گیا اور لوٹ مار بھی کی گئی۔ پولیس نے ایک گھر کے گیراج اور ایک دکان کے نذر آتش کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق احمدی جماعت کے کارکنوں کے ڈیروں پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے ان کے ٹریکٹر ٹرالیاں،تیل کے ڈرم اور مرغی فارم بھی تباہ کر دیا گیاہے۔ مظاہرے کی اطلاع ملتے ہیں پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے احمدی جماعت کے تمام کارکنوں اور ان کے اہلخانہ خواتین اور بچوں کو ان کی حفاظت کے پیش نظر گاؤں سے نکال کر کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر نے بی بی سی کوبتایا کہ ملزموں کا موقف ہے کہ وہ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کومحض تلف کرنا چاہتے تھے اور ملزموں کے بقول ان کا مقصد توہین کرنا نہیں تھا تاہم مقامی مسلمان آبادی نے اسے اپنے مذہب کی توہین سمجھا تھا۔ جماعت احمدیہ کے بقول وہ چند پرانے اخبارات اور رسائل تلف کر رہے تھے۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق اب حالات معمول پر ہیں تاہم ان کے بقول ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے کے واقعہ میں کون کون ملوث ہے؟ واضح رہے کہ چند روز پہلے بھی پنجاب کے شہر حاصل پور میں اس سے ملتے جلتے واقعے میں مشتعل افراد نے ایک مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ ان پر بھی الزام تھا کہ انہوں نے قرآن پاک کو آگ لگائی تھی۔ | اسی بارے میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل16 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان سکھرمیں دو چرچ نذر آتش19 February, 2006 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی: لاہور میں احتجاج08 February, 2006 | پاکستان گرجا کی بے حرمتی، دو افراد گرفتار27 November, 2005 | پاکستان ہندو جوڑا: قرآن کی بے حرمتی پر گرفتار02 September, 2005 | پاکستان قرآن کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج 29 June, 2005 | پاکستان قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قرارداد13 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||