گرجا کی بے حرمتی، دو افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پنجاب کے ایک شہر نارروال کے دیہات میں پولیس نے ایک گرجا گھر کی مبینہ بے حرمتی اور چند عیسائی افراد پر حملے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیاہے۔ پولیس نے ان سمیت ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تھانہ نارروال میں درج ایف آئی آر کے مطابق ایک دیہات ’کھوکھر پنڈ‘ کے رہائشی شنکھارا مسیح نے پولیس کو شکایت کی کہ اسی کے گاؤں کے محمد بوٹا اور اس کے بیٹے ثاقب نے ان کے گھروں کے نکاسی آب کی نالی بند کر دی اور دھمکی دی کہ اگر اسے کھولا گیا تو وہ جان سے مار دیں گے۔ درخواست دہندہ کے مطابق دو روز پہلے (جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب) ملزمان محمد بوٹا ان کے بیٹے محمد ثاقب، رشتہ دار محمد شفیق اور دیگر پندرہ سولہ افراد نے ان کے گھر پر مبینہ طورپر حملہ کر دیا۔ خواتین سمیت اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور شنکھارا مسیح کے بقول ان کی اہلیہ پورو بی بی کی قمیض بھی پھاڑ ڈالی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان ملزموں نے چند دیگر مسیحی گھرانوں پر بھی حملہ کیا اور مار پیٹ کی۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مقامی گرجا گھر پر حملہ کیا اور عیسائیوں کی مقدس کتاب کی مبینہ بے حرمتی کی۔ پولیس کے مطابق اشرف مسیح اور ریاض اور الیاس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا دو گھنٹے تک محمد بوٹا کے گھر میں محبوس رکھا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر میں درج مندرجات کےمطابق اس مقدمہ میں توہین مذہبی عقائد و مذہبی مقامات کی بے حرمتی پر مبنی تعزیرات پاکستان کی دفعات لگائی جاسکتی تھیں جو نہیں لگائی گئیں اس کے بجاۓ لڑائی جھگڑے، مارپیٹ، حبس بےجا میں رکھنے اور خواتین کے سے نازیبا سلوک رکھنے کی عام دفعات لگائی گئی ہیں۔ تھانہ صدر نارروال کے ڈیوٹی محرر محمد عابد نے بتایا کہ یہ معاملہ مذہبی نوعیت کا نہیں ہے اور ایک فریق اسے خوامخواہ مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے محمد بوٹا اور اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے اور دیگرکی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ شنکھارا مسیح کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مذپی رنگ لیے ہوۓ ہے اور علاقے کے ایک بااٹر شخص کی ایما پر ہوا ہے۔ تقریبا دو ہفتے قبل بھی پنجاب کے ایک شہر سانگلہ ہل میں مقامی عیسائی آبادی اور دو گرجا گھروں پر حملے ہوئے تھے اور پولیس نے نوے کے قریب افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ | اسی بارے میں گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں12 November, 2005 | پاکستان ’قانون پر نظرثانی ضروری ہے‘ 24 November, 2005 | پاکستان پادری کے قتل کے خلاف مظاہرہ08 April, 2005 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم مر گیا29 May, 2004 | پاکستان پنجاب: اقلیتی اراکان کا احتجاج19 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||