پنجاب: اقلیتی اراکان کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں اقلیتی اراکین نے لاہور کی نواحی بستی امرسدھو میں ایک عیسائی کے خلاف توہین رسالت کے مقدمہ اور اس کے نتیجے میں عیسائیوں کے گھروں پر مسلمانوں کے ایک گروہ کے حملے پر احتجاج کیا ہے۔ حزب اختلاف کے اقلیتی رکن پرویز رفیق نے اجلاس کی کارروائی کے دوران کہا کہ دس ستمبر کو نواحی آبادی امرسدھو میں یونس مسیح کو تو توہین رسالت کے مقدمہ میں گرفتار کر لیاگیا لیکن ان کے بقول یونس مسیح پر یہ الزام لگنے کے بعد پانچ سو کے قریب مسلمانوں نے عیسائیوں کے گھروں پر حملہ کیا خواتین کے کپڑے پھاڑے اور بائبل کی بے حرمتی کی۔ یونس مسیح پر الزام ہے کہ انہوں نے قوالیوں کی ایک تقریب کے دوران مائیک چھین کر کچھ ایسے الفاظ ادا کیے تھے جنہیں مقامی مسلمانوں نے اپنے مذہب اور پیغمبراسلام کی توہین قرار دیا تھا۔ پنجاب اسمبلی کے رکن نے کہا کہ اس کے بعد اس علاقے کی پچاس فی صد عیسائی آبادی اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی عیسائیوں نے اس کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواست بھی دی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ ان کے بقول مقامی پولیس پر مسلمان علماءکا بہت دباؤ ہے۔ پرویز مسیح نے کہا کہ یونس مسیح تو گرفتار ہیں لیکن عیسائیوں کی درخواست پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو رہی۔ رکن پنجاب اسمبلی نے کہا ہے اگر مناسب کارروائی نے کی گئی تو اس بستی میں عیسائیوں کا مزید قیام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اپوزیشن سے ہی تعلق رکھنے والے ایک دوسرے عیسائی رکن اسمبلی کامران مائیکل نے کہا ’حکومت کی طرف سے کوئی انسدادی کارروائی نہیں ہوئی اسی لیے ہمارے چرچ اور بائبل کی بے حرمتی ہوئی اور اس کے خلاف کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا‘۔
پنجاب اسمبلی کے کے قائم مقام سپیکر نذر فرید کھوکھر نے کہا کہ یہ بات نکتہ اعتراض تو نہیں بنتی لیکن پولیس کی طرف سے پر تشدد مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج ہونے نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ فریق ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے یا معزز رکن اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرکے وزیر قانون سے جواب طلب کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کی انسانی حقوق کی تنظیمیوں اور غیر مسلم برادریاں مخالفت کرتی ہیں اسے اقلیتوں کے خلاف ایک امتیازی قانون قراد دیتی ہیں۔ اس قانون کے تحت پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت ہے یہ قانون بیس سال پہلے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس قانون کو نافذ کیا گیا جس کے بعد اس قانون کے تحت متعدد مقدمات درج ہوئے۔ کئی مقدمات میں مقامی عدالتوں نے سزائے موت سنائی جو اعلی عدالتوں سے کالعدم قرار دی جاتی رہی ہیں اور آج تک اس قانون کے تحت سنائی گئی سزا کے تحت کسی کو پھانسی نہیں دی گئی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مقدمات کی کارروائی کےدوران ہی کئی ملزموں کو قتل کر دیاگیا اور اس الزام کا سامنا کرنے والے کئی افراد بیرون ملک پناہ لے چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||