سندھ کے ہندو سراپا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر جیکب آباد سے ایک ہندو لڑکی سپنا کے مبینہ اغوا کے بعد ہندو برادری سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ جیکب آباد میں گزشتہ روز اپر سندھ اور بلوستان کی پنچایتوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پولیس کو ہفتے کی شام تک کی مہلت دی گئی ہے۔ بصورت دیگر جیکب آباد کے علاوہ کشمور، ڈیرا مراد جمالی اور ڈیرہ اللہ یار میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہندو پنچایت کے صدر بابو رمیش لال نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ساتھ گزشتہ ایک عرصے سے زیادتی کی جارہی ہے۔ سر عام شہر سے ہماری بہن بیٹیوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ ’ہم آخر یہ تماشا کب تک دیکھتے رہیں گے، جب ہماری عزتوں کو یہاں تحفظ حاصل نہیں ہوگا تو ہم بدظن ہوجائیں گے۔‘ بابو رمیش لال نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور انہیں تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ’ہم یہ ملک چھوڑ دینگے‘۔ دوسری جانب سپنا کا مذہب تبدیل کرنے کے بعد نام مہک رکھا گیا ہے۔ سپنا نےایک نجی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس نے شمس الدین کی ساتھ جینے مرنے کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ ’وہ اس سے محبت کرتی ہے۔‘ سپنا عرف مہک کے مطابق اس نے خود ٹیلیفون کر کے شمس الدین کو بلایا تھا اور اپنی مرضی سے گھر چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین ان کی شادی کہیں اور کرنا چاہتے تھے۔ سپنا کا کہنا تھا کہ اگر اس کو یا اس کے شوہر شمس الدین کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اس کے ذمہ دار اس کے والدین اور پنچایت ہوگی۔ دوسری جانب جیکب آباد اور ہالہ شہر میں سپنا کے اغوا کے خلاف احتجاج کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا لڑکی کو بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات اعلیٰ عدالت کے جج سے کروائی جائیں۔ بابو رمیش لال نے کہا کہ کوئی بھی لڑکی دو چار روز اغوا رہنے کے بعد اغوا کنندگان کے حق میں بیان دے سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||