وزیر کا قتل، ملزمان کا ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اقلیتی امور کے سابق وفاقی وزیر ڈیرک سپرین کے قتل میں ملوث بنک منیجر اور ایک پولیس انسپکٹر سمیت تین ملزموں کو عدالت نےچار روز کےجسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈیرک سپرین کو مبینہ طور پر چھ اگست کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا تھا اور پولیس نے ان کی صاحبزادی کے بیان پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا لیکن بعد میں تفتیش کے بعد پولیس حکام نے گلبرگ کے پولیس تفتیشی مرکز کے انچارج پولیس انسپکٹر اور بنک کے منیجر کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کی تفتیشی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ مسعود عزیز نے بتایا کہ ملزمان نے سابق وفاقی وزیر کو ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کی خاطر قتل کیا ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ مقتول وفاقی وزیر رقم کیش کروانے کے لیے یونین بینک گئے تھے جہاں بنک منیجر نے انہیں فوری رقم دینے کی بجائے مشترکہ دوست پولیس انسپکٹر کو بلا لیا جو وفاقی وزیر کو اغوا کرکے لیے گیا اور اس نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ملکر مبینہ طور پر ڈیرک سپرین کو گلا گھونٹ کر قتل کیا اور لاش ویران علاقے میں پھینک دی۔ پولیس کے مطابق بعد میں بینک منیجر نے اس چیک پر تاریخ کے چھ کے ہندسے کو آٹھ میں تبدیل کیا اور چیک کیش کروا لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہی غلطی ان کی گرفتاری کا سبب بنی جس کے بعد بینک منیجر اور پولیس انسپکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بتایا ہے کہ انسپکٹر نے پولیس کے روبرو اعتراف جرم کر لیا ہے۔ پولیس نے سابق وفاقی وزیر کے باقی پانچ بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں اور اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ اس رقم کے علاوہ تو مزید کوئی رقم ان کے اکاؤنٹ سے نکالی گئی ہے یا نہیں۔ پولیس نے یونین بنک کے منیجر کے گھر چھاپہ مار کے لوٹی گئی رقم میں سے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے برآمد کرلیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||