’وزراء واپسی کی ضمانت دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے احتساب بیورو نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور دو وزراء سے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک جانے سے پہلے دس دس لاکھ روپے کہ مچلکے جمع کرائیں۔ احتساب بیورو کی طرف سے یہ حکم ایک ایسے موقع پر دیا گیاہےکہ جب سپییکر اور ان وزراء سمیت سات اراکین اسمبلی ایک پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ جانے والے ہیں۔ مزاکراتی مہارت اور تنازعات کے حل کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد امریکہ کاایک غیر سرکاری ادارہ ’انسٹی ٹیوٹ آف ملٹی ٹریک ڈپلومیسی‘ کر رہا ہے اور کشمیر کی ایک این جی او ’ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنشنل ریلشنز‘ اس ادارے کی معاونت کررہی ہے۔ ایک ہفتے کی یہ تربیتی ورکشاپ دس جولائی سے امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں شروع ہورہی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر، چار وزراء سمیت ایک سرکاری عہدیدار اور دو اراکین اسمبلی کواس ورکشاپ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور جو اس میں شرکت کے لیےامریکہ جانے والےہیں۔ اس تربیتی ورکشاپ کامقصد اراکین اسمبلی کی مذاکراتی مہارت کی اہلیت میں اضافہ کرنا ہے۔ امریکہ میں اس تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے بعد یہ وفد برطانیہ بھی جائے گا۔ لیکن اراکین کے لیے یہ بات شدید حیرت کا باعث بنی کہ احستاب بیورو نے اس وفد میں شامل قانون ساز اسمبلی کے سپیکر سردار سیاب خالد، وزیر خزانہ راجہ نصار اور وزیر تعمیرات عامہ چوہدری طارق فاروق سے تحریری طور پر یہ کہا ہے کہ وہ دس دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائیں اور اسی صورت میں انکو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے گی۔ احستاب بیورو کا موقف یہ ہے کہ ان افراد کے خلاف کچھ شکایات ہیں جنکی بیورو تحقیقات کررہا ہے اور انہی شکایات کی بنیاد پر ان سے دس دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ اراکین اپنے دورے کے ختم ہونے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔ اگرچہ احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ ان کی یہ کاروائی قانون کے مطابق ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ احتساب بیورو نے قانون ساز اسمبلی کے اراکین کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے ایسی شرط عائد کی ہے۔ واضع رہے کہ تربیت کی فیس سے لے کراس وفد کے سفر اور رہائش پراٹھنے والےتمام اخراجات کشمیر اسمبلی خود برداشت کررہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سرکاری وسائل سے اراکین اسمبلی کو اس طرح کی تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجاجارہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||