BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزراء واپسی کی ضمانت دیں‘

News image
کشمیر اسمبلی کے سپیکر اوروزراء کومچلکے جمع کروانے کا کہاگیاہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے احتساب بیورو نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور دو وزراء سے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک جانے سے پہلے دس دس لاکھ روپے کہ مچلکے جمع کرائیں۔

احتساب بیورو کی طرف سے یہ حکم ایک ایسے موقع پر دیا گیاہےکہ جب سپییکر اور ان وزراء سمیت سات اراکین اسمبلی ایک پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ جانے والے ہیں۔

مزاکراتی مہارت اور تنازعات کے حل کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد امریکہ کاایک غیر سرکاری ادارہ ’انسٹی ٹیوٹ آف ملٹی ٹریک ڈپلومیسی‘ کر رہا ہے اور کشمیر کی ایک این جی او ’ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنشنل ریلشنز‘ اس ادارے کی معاونت کررہی ہے۔

ایک ہفتے کی یہ تربیتی ورکشاپ دس جولائی سے امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں شروع ہورہی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر، چار وزراء سمیت ایک سرکاری عہدیدار اور دو اراکین اسمبلی کواس ورکشاپ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور جو اس میں شرکت کے لیےامریکہ جانے والےہیں۔

اس تربیتی ورکشاپ کامقصد اراکین اسمبلی کی مذاکراتی مہارت کی اہلیت میں اضافہ کرنا ہے۔

امریکہ میں اس تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے بعد یہ وفد برطانیہ بھی جائے گا۔

لیکن اراکین کے لیے یہ بات شدید حیرت کا باعث بنی کہ احستاب بیورو نے اس وفد میں شامل قانون ساز اسمبلی کے سپیکر سردار سیاب خالد، وزیر خزانہ راجہ نصار اور وزیر تعمیرات عامہ چوہدری طارق فاروق سے تحریری طور پر یہ کہا ہے کہ وہ دس دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائیں اور اسی صورت میں انکو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے گی۔

احستاب بیورو کا موقف یہ ہے کہ ان افراد کے خلاف کچھ شکایات ہیں جنکی بیورو تحقیقات کررہا ہے اور انہی شکایات کی بنیاد پر ان سے دس دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ اراکین اپنے دورے کے ختم ہونے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔

اگرچہ احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ ان کی یہ کاروائی قانون کے مطابق ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ احتساب بیورو نے قانون ساز اسمبلی کے اراکین کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے ایسی شرط عائد کی ہے۔

واضع رہے کہ تربیت کی فیس سے لے کراس وفد کے سفر اور رہائش پراٹھنے والےتمام اخراجات کشمیر اسمبلی خود برداشت کررہی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سرکاری وسائل سے اراکین اسمبلی کو اس طرح کی تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجاجارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد