قرآن کی بے حرمتی: لاہور میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پولیس نے بتایا ہے کہ منگل کو قرآن کی بے حرمتی کے ایک مبینہ واقعے کے بعد اب حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ لاہور میں مشتعل ہجوم نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور دو مقامی سینما گھروں کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہجوم نے نجی اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ایک پولیس اہلکار نے لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار شاہد ملک کو بتایا کہ یہ واقعہ ان اطلاعات کے بعد ہوا کہ علامہ اقبال ایئرپورٹ کے نزدیک ایک رہائشی علاقے میں قرآن کے کچھ ورق نالی سے نکلے ہیں۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی سینکڑوں مشتعل نوجوانوں ٹولیوں کی شکل میں سڑکوں پر آگئے اور ڈیفس ہاؤسنگ کالونی اور ہوائی اڈے کے درمیان رابطے کی اہم شاہراہ کو بند کردیا۔ پولیس کے مطابق ہوائی اڈے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کو ملانے والی یہ شاہراہ پولیس بتایا کہ نامعلوم افراد کے خلاف قرآن کی توہین کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ احتجاج کا یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب ملک کے کئی شہروں میں اہم مقامات کو عشرۂ محرم کے باعث حساس قرار دے کر فوج کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ پاکستان میں یومِ عاشور جمعرات کو منایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی پر قتل20 April, 2005 | پاکستان کورٹ: جج کےخلاف کارروائی کا حکم22 December, 2005 | پاکستان ’قرآن کی بےحرمتی‘ پر اشتعال06 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||