آٹھ احمدیوں کا قتل، ملزم بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے احمدی جماعت کے آٹھ افراد کے قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم کو بری کر دیا ہے عدالت کے مطابق ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ استغاثہ کے مطابق گذشتہ برس سات اکتوبر کو پاکستانی پنجاب کے ضلع منڈی بہاءالدین کے نواحی قصبے مونگ میں جماعت احمدیہ کی ایک مسجد بیت الذکر پر ہونے والے حملے اور فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور حملہ آور فرار ہوگئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور بعد میں شک کی بنا پر ایک نوجوان عامرمحمود عرف عامر شہزاد کو گرفتار کر لیا تھا اور اسی کےبارے میں چالان بنا کر عدالت پیش کر دیا۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج مجاہد مستقیم احمد نے جمعہ کی سہ پہر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عامر محمود کو باعزت بری کر دیا۔
جماعت احمدیہ کے اراکان کو ء انیس سو چوہتر میں پاکستانی پارلیمان نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا تب سے انسانی حقوق کی تنظیمیں جماعت احمدیہ کے ارکان سے روا رکھے گئے سلوک کی شکایت کرتی آئی ہیں۔ | اسی بارے میں احمدی مسجد پر حملہ، آٹھ ہلاک07 October, 2005 | پاکستان سیالکوٹ میں احمدیوں پر حملہ25 June, 2006 | پاکستان سلام کہنے پر دو سال سزا05 June, 2006 | پاکستان احمدی رپورٹ، منافرت مہم08 March, 2006 | پاکستان احمدی مسجد پر حملے کی مذمت08 October, 2005 | پاکستان ربوہ میں اخبارات کے خلاف کارروائی06 August, 2005 | پاکستان جماعت احمدیہ کا اردو پریس پر تعصب کا الزام08 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||