گجرات: کشیدگی اپنے عروج پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودھریوں کے آبائی شہر گجرات میں ظہور پیلس کے سامنے ہونے والی فائرنگ کے بعد پنجاب کے اس شہر میں انتخابی کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی کا مناسب بندوبست نہ کیا گیا تو الیکشن والے دن آٹھ دس لاشیں گر سکتی ہیں ۔ گجرات مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین اور صوبائی صدر چودھری پرویز الہی کا آبائی شہر اور وہ ہمیشہ سے یہاں سے الیکشن لڑتے آئے ہیں۔ ظہور پیلس ان کی رہائش گاہ ہے۔ فائرنگ کل رات اس وقت ہوئی جب پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا اختتامی جلوس ظہور پیلس کے سامنے سے گذرا۔مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام لگا رہے ہیں لیکن ایک مقامی اخبار کے صحافی کے مطابق زخمی ہونے والے تمام پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وفاقی وزیر احمد مختار کے خلاف اس انتخابی مہم کے دوران سات مقدمات درج ہوچکے ہیں اور وہ اپنی حفاظت کے لیے ہر وقت سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ سفر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جاں نثار کارکنوں کی فورس نہ ہوتی تو وہ کب کے گرفتار ہوچکے ہوتے۔ چودھری شجاعت کے ایک بھائی چودھری شفاعت حسین اسی ضلع کے ناظم ہیں اور پولیس ان کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔ احمد مختار کہتے ہیں کہ انہیں صرف چودھری شجاعت کا ہی سیاسی طور پر سامنا نہیں ہے کہ بلکہ انہیں ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا بھی مقابلہ کرنا پڑرہا ہے۔ اسی شہر میں چودھری شجاعت کے تیسرے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ وہی شخصیت ہیں جن سے برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میں پوچھ گچھ کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کر دیاگیا تھا۔
چودھری براداران بارہ اکتوبر سنہ ننانوے کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا جانے سے پہلے ان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور چودھری شجاعت باقاعدہ ان کی کابینہ کے اہم رکن تھے۔ اسی گجرات میں ایک بار نوازشریف جلسے میں شرکت کے لیے آئے تو انہی چودھریوں نے ان کا اس قدر والہانہ استقبال کیا تھا کہ نواز شریف کو ان کی گاڑی سمیت کندھوں پر اٹھا لیا گیا تھا۔ چودھری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ نواز شریف جب فوجی حکمرانوں سے ڈیل کرکے مسلم لیگ کو بے یارو مددگار چھوڑ کر اپنے خاندان سمیت راتوں رات ملک سے چلے گئے تو مسلم لیگ کو متحد رکھنے کے لیے ان کے پاس اس کےسوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مسلم لیگ قاف بنالیتے۔ گجرات کے چودھری دوستی اور دشمنی کی انتہا کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ جب وہ نواز شریف کے ساتھ تھے تو ان کے انتہائی قریبی ساتھی اور جب انہوں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا تو انہیں دس بار وردی میں صدر منتخب کرانے کا اعلان کرتے رہے۔ چودھری شجاعت حسین کے والد چودھری ظہور الہی ایک عام پولیس ملازم تھے لیکن انہوں نے تیزی سے مادی ترقی کی منازل طے کیں اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ جنرل ضیاءالحق کے زیر سایہ بننے والی کابنیہ کے رکن تھے اور کچھ عرصے بعد فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے۔ان کے قتل کاالزام الذوالفقار پر لگایا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد چودھری شجاعت میدان سیاست میں آئے اور ان کی ہمیشہ کی شناخت انٹی پیپلز پارٹی کی رہی ہے۔ ان انتخابات میں بھی انہوں نے نواز شریف کے بے نظیر بھٹو اور پھر آصف زرداری سے مفاہمتی روابط کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ قاف کو کم از کم پنجاب کی حد تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی ٹکر کی جماعت قرار دیا جارہا ہے تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے انتخابات چودھریوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کردیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مسلم لیگ قاف پنجاب اور مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آسکی تو اس کے ممبران کی ایک بڑی چودھریوں سے ایسے ہی بے وفائی کا ارتکاب کرکے نواز شریف کے ساتھ مل جائیں گے جیسے کبھی وہ نواز شریف کو چھوڑ کر چودھریوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||