BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 11:00 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: کشیدگی اپنے عروج پر

وجاہت حسین
چودھری شجاعت کے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں
چودھریوں کے آبائی شہر گجرات میں ظہور پیلس کے سامنے ہونے والی فائرنگ کے بعد پنجاب کے اس شہر میں انتخابی کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی کا مناسب بندوبست نہ کیا گیا تو الیکشن والے دن آٹھ دس لاشیں گر سکتی ہیں ۔

گجرات مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین اور صوبائی صدر چودھری پرویز الہی کا آبائی شہر اور وہ ہمیشہ سے یہاں سے الیکشن لڑتے آئے ہیں۔ ظہور پیلس ان کی رہائش گاہ ہے۔ فائرنگ کل رات اس وقت ہوئی جب پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا اختتامی جلوس ظہور پیلس کے سامنے سے گذرا۔مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام لگا رہے ہیں لیکن ایک مقامی اخبار کے صحافی کے مطابق زخمی ہونے والے تمام پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وفاقی وزیر احمد مختار کے خلاف اس انتخابی مہم کے دوران سات مقدمات درج ہوچکے ہیں اور وہ اپنی حفاظت کے لیے ہر وقت سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ سفر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جاں نثار کارکنوں کی فورس نہ ہوتی تو وہ کب کے گرفتار ہوچکے ہوتے۔

چودھری شجاعت کے ایک بھائی چودھری شفاعت حسین اسی ضلع کے ناظم ہیں اور پولیس ان کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔ احمد مختار کہتے ہیں کہ انہیں صرف چودھری شجاعت کا ہی سیاسی طور پر سامنا نہیں ہے کہ بلکہ انہیں ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا بھی مقابلہ کرنا پڑرہا ہے۔

اسی شہر میں چودھری شجاعت کے تیسرے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ وہی شخصیت ہیں جن سے برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میں پوچھ گچھ کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کر دیاگیا تھا۔

چودھری پرویز الہی
چودھری پرویز الہی مسلم لیگ ق کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بھی ہیں
چودھری اپنے مخالفین کے اس الزام کی ہمیشہ تردید کرتے ہیں کہ گجرات میں کوئی وجاہت فورس کام کررہی ہے۔ مخالفین کاکہنا ہے کہ اس غیر رجسٹرڈ تنظیم کا جھنڈا ایم کیو ایم کے جھنڈے سے مشہابہت رکھتا ہے اور کارکنوں کو گرین کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔اس فورس کے زور زبردستی اورمارپیٹ کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات کے دوران وہ نواز شریف اور شہباز شریف کے پوسٹر اور بینر اتار کر پھاڑتے اور پیروں تلے روندتے نظر آئے۔

چودھری براداران بارہ اکتوبر سنہ ننانوے کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا جانے سے پہلے ان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور چودھری شجاعت باقاعدہ ان کی کابینہ کے اہم رکن تھے۔

اسی گجرات میں ایک بار نوازشریف جلسے میں شرکت کے لیے آئے تو انہی چودھریوں نے ان کا اس قدر والہانہ استقبال کیا تھا کہ نواز شریف کو ان کی گاڑی سمیت کندھوں پر اٹھا لیا گیا تھا۔

چودھری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ نواز شریف جب فوجی حکمرانوں سے ڈیل کرکے مسلم لیگ کو بے یارو مددگار چھوڑ کر اپنے خاندان سمیت راتوں رات ملک سے چلے گئے تو مسلم لیگ کو متحد رکھنے کے لیے ان کے پاس اس کےسوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مسلم لیگ قاف بنالیتے۔

گجرات کے چودھری دوستی اور دشمنی کی انتہا کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ جب وہ نواز شریف کے ساتھ تھے تو ان کے انتہائی قریبی ساتھی اور جب انہوں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا تو انہیں دس بار وردی میں صدر منتخب کرانے کا اعلان کرتے رہے۔

چودھری شجاعت حسین کے والد چودھری ظہور الہی ایک عام پولیس ملازم تھے لیکن انہوں نے تیزی سے مادی ترقی کی منازل طے کیں اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ جنرل ضیاءالحق کے زیر سایہ بننے والی کابنیہ کے رکن تھے اور کچھ عرصے بعد فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے۔ان کے قتل کاالزام الذوالفقار پر لگایا تھا۔

اس ہلاکت کے بعد چودھری شجاعت میدان سیاست میں آئے اور ان کی ہمیشہ کی شناخت انٹی پیپلز پارٹی کی رہی ہے۔

ان انتخابات میں بھی انہوں نے نواز شریف کے بے نظیر بھٹو اور پھر آصف زرداری سے مفاہمتی روابط کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان انتخابات میں مسلم لیگ قاف کو کم از کم پنجاب کی حد تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی ٹکر کی جماعت قرار دیا جارہا ہے تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے انتخابات چودھریوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کردیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مسلم لیگ قاف پنجاب اور مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آسکی تو اس کے ممبران کی ایک بڑی چودھریوں سے ایسے ہی بے وفائی کا ارتکاب کرکے نواز شریف کے ساتھ مل جائیں گے جیسے کبھی وہ نواز شریف کو چھوڑ کر چودھریوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔

سکیورٹی اہلکاربلوچستان الیکشن
684 امیدوار اور ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار
نواز شریفالیکشن 2008
لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
ضیاءالحقانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: تیسرا حصہ
اشتہارکروڑوں کے اشتہار
انتخابی خرچ اعلان کردہ آمدن سے کہیں زیادہ
سندھ انتخابی جائزہ
بینظیر کی ہلاکت نے انتخابی منظرنامہ بدل دیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد