BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 08:31 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ سالہ انتخاب کہانی: تیسرا حصہ

ضیاءالحق
جنرل ضیا الحق نے خود کو ملک کا جائز صدر بنوانے کے لئے انیس دسمبر انیس سو چوراسی کو ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا
فروری انیس سو پچاسی میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سائے میں ملک میں پہلی بار غیر جماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔

اس سے قبل ضیاء الحق جو نوے دن میں اقتدار کی عوام کو منتقلی کے وعدے پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے تھے انہوں نے دو مرتبہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے انہیں منسوخ کردیا تھا۔کیونکہ بقول ان کے وہ ایسی انتخابی فضاء قائم کرنا چاہتے تھے جس میں مثبت نتائج حاصل ہوسکیں اور منتخب نمائندوں کا قبلہ بھی درست ہو۔

اس کی ابتداء انہوں نے انیس سو اناسی میں غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کروا کے کی تاکہ ایک متوازی سیاسی قیادت کی داغ بیل ڈالی جاسکے۔اس دوران پارلیمنٹ کے متبادل کے طور پر ایک نامزد مجلسِ شوریٰ تشکیل دی گئی جس کے ارکان کا انتخاب بہت چھان پھٹک اور بقول ضیاءالحق حسب نسب دیکھنے کے بعد کیا گیا۔ تاہم اس مجلسِ شوریٰ کو قانون سازی کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔ پھرجنرل ضیاء الحق نے خود کو ملک کا جائز صدر بنوانے کے لیے انیس دسمبر انیس سو چوراسی کو ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جس میں رائے دہندگان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کی جانب سے پاکستان کے قوانین کو قران و سنت کے مطابق ڈھالنے، نظریہ پاکستان کے تحفظ اور استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو جاری رکھنے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی پرامن اور منظم تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر جنرل ضیاء الحق اگلے پانچ برس کی مدت کے لیے صدرِ مملکت ہیں۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد ایم آر ڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شاعرِ عوام حبیب جالب نے ریفرنڈم کے دن کے بارے میں کہا:

شہر میں ہو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا

غلام اسحاق خان
غلام اسحاق خان نے ان شرائط کے تحت بے نظیر بھٹو کو حکومت سازی کی دعوت دی کہ وہ افغان ، کشمیر پالیسی اور ایٹمی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گی
تاہم اسلام آباد سے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ریفرنڈم میں ڈالے گئے نوے فیصد سے زائد ووٹ صدر ضیا الحق کے حق میں پڑے ہیں۔

ریفرنڈم کے بعد صدر نے اعلان کیا کہ قومی اور صوبائی انتخابات با لترتیب پچیس اور اٹھائیس فروری انیس سو پچاسی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابات کو غیر جماعتی رکھنے کے لئے ایک آئینی ترمیم کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ ہر امیدوار کے لیے لازم تھا کہ وہ پچاس افراد کے تائیدی دستخط ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش کرے۔اس مقصد کے لیے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ میں ترمیم کی گئی۔ ایم آر ڈی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اسکے باوجود ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد نے حصہ لیا۔ سرکاری طور پر قومی اسمبلی کے لیے پڑنے والے ووٹوں کی شرح تقریباً چون فیصد اور صوبائی پولنگ کی شرح ستاون فیصد سے زائد رہی۔

ان انتخابات کے نتیجے میں خاصے نئے چہرے سامنے آئے۔ محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم چنا گیا۔ پارلیمنٹ نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے ضیاء الحق کے تمام مارشل لاء احکامات کو آئینی تحفظ دیا اور انہیں اٹھاون ٹو بی کے تحت پارلیمنٹ اور حکومت کو ختم کرنے کے صوابدیدی اختیارات بھی دے دیئے۔ اس کے علاوہ اس غیر جماعتی پارلیمنٹ میں اس مسلم لیگ کا جنم ہوا جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی چہرہ بنی ہوئی ہے۔

انیس سو اٹھاسی

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر جنرل ضیاء الحق اپنے غیر جماعتی نظام سمیت طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے اور سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان نے قائم مقام صدارت اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے فوج کی کمان سنبھالی۔

نئی حکومت نے سولہ نومبر کو قومی اور انیس نومبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کیا۔ سن ستتر کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پیپلز پارٹی باقاعدہ کسی قومی انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔اس خدشے کے پیشِ نظر کہ پیپلز پارٹی اکثریت سے کامیاب نہ ہوجائے، اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ایک نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ نتیجہ ایک معلق پارلیمنٹ کی صورت میں نکلا۔ پیپلز پارٹی کو ترانوے اور آئی جے آئی کو چون ، ایم کیو ایم کو تیرہ، جے یو آئی (ایف) کو سات اور اے این پی کو دو نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تینتالیس فیصد بتائی گئی۔ کل اڑتیس جماعتوں نے انتخابات میں شرکت کی۔

نوابزادہ نصراللہ خان
نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پانچ برس کی مدت کے لئے صدر منتخب کیا گیا
صدر غلام اسحاق خان نے ان شرائط کے تحت بے نظیر بھٹو کو حکومت سازی کی دعوت دی کہ وہ افغان اور کشمیر پالیسی اور ایٹمی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گی۔ خارجہ پالیسی کے تسلسل کے لئے صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیرِ خارجہ کا قلمدان دیں گی اور صدارتی انتخاب میں غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی۔

بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم، فاٹا ارکان اور کچھ آزاد امیدواروں کی مدد سے حکومت تشکیل دی اور کسی مسلمان ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر پاکستانی سیاست نے یہ دن بھی دیکھا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں جنرل ضیاء الحق کے دستِ راست غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پانچ برس کی مدت کے لیے صدر منتخب کرلیے گئے۔ لیکن بے نظیر اور غلام اسحاق خان میں مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کے معاملے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ چھ اگست انیس سو نوے کو صدر نے اٹھاون ٹو بی کے تحت بے نظیر حکومت کو بدعنوانی اور نااہلی کا مرتکب قرار دے کر برخاست کردیا۔

انیس سو نوے

بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب ان کے سیاسی مخالف غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگراں وزیرِ اعظم بنایا گیا تو اسی وقت ہوا کے رخ کا اندازہ ہوگیا کہ چوبیس اکتوبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اقتدار کی ہوا کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے۔ چنانچہ جب انتخابی نتائج سامنے آنے شروع ہوئے تو بات واضح ہوگئی۔ نواز شریف کے اسلامی جمہوری اتحاد کو قومی اسمبلی کی ایک سو چھ اور پیپلز پارٹی کو چوالیس نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تقریباً چھیالیس فیصد بتائی گئی۔اڑتالیس جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ متعدد غیر ملکی مبصرین نے انتخابی عمل کو غیر شفاف قرار دیا۔

لیکن اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے مسلح صدر اور نئے وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان جلد ہی بالکل اسی انداز کی کشمکش شروع ہوگئی جو بے نظیر حکومت کے زوال کا سبب بنی تھی۔ یعنی مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کا معاملہ۔ چنانچہ جب یہ اختلافات سڑک پر آ گئے اور ایوانِ وزیرِ اعظم اور ایوانِ صدر دو متحارب کیمپوں میں تبدیل ہوگئے تو غلام اسحاق خان نے ڈیڑھ برس میں دوسری دفعہ آئینی وار کیا اور انیس اپریل انیس سو ترانوے کو نواز شریف حکومت برطرف کر کے میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردیا اور پارلیمانی انتخابات کے لیے چودہ جولائی کی تاریخ مقرر کردی۔ نگراں حکومت میں پیپلز پارٹی کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی اور آصف زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے کئی وزراء نے حلف اٹھا لیا۔

ٹیپسایک اور ریکارڈنگ
ملک قیوم کی انتخابی دھاندلی پرمبینہ ریکارڈنگ
قوم پرست باہر
بلوچ قوم پرست انتخابات سے باہر رہیں گے
مولانا فضل الرحمٰناب ووٹ نہیں دیں گے
وزیر، محسود قبائل کے مولانا سےگلے شکوے
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
نواز شریفالیکشن 2008
لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد