علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور |  |
 | | | آصف زرداری نے نواز شریف سے رائے ونڈ میں ملاقات کی |
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ اگر انہیں انتخابات میں دو تہائی اکثریت مل گئی تو وہ صوبائی خود مختاری کے لیے کام کریں گے اور انہیں بھی ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے جو پاکستان سے روٹھے ہوئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے لاہورمیں صحافیوں کے گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ آصف زرداری نے انتخابی مہم کے آخری دن مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں کو انٹرویو دئیے۔ آصف زرداری نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انتخابات کے بعد وہ تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا کریں، ایم کیو ایم کو بھی اور انہیں بھی جو پارلیمنٹ میں نہیں ہیں۔ان کے سامنے پاکستان کے مسائل رکھ کر ان کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب کی سوچ اور فہم کو بروئے کار لاکر ملک کے مسائل حل کرنا چاہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے لیکن وہ تمام روٹھے ہوئے لوگوں کو منا کر قومی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کمزور ہوگی تو ملک دشمن طاقتیں مضبوط ہوں گی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سے لاہور میں ان کے رائے ونڈ فارم ہاؤس میں ملاقات کی اور اکٹھے کھانا کھایا۔ آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف سے ملاقات میں بھی ساتھ چلنے پر بات ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک صدر مشرف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ ہے تو پہلے اس ڈگر تک پہنچنا ہے اور اس کے بعد پارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ ان سے بات کرنا ہے یا نہیں؟ البتہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ چلنے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی نے انہیں بس اتنا ہی مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ اس دن کا انتظار کریں جب اس مرحلے تک پہنچ جائیں گے تو فیصلہ پارٹی اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں صدر مشرف کے مستقبل کا فیصلہ بھی منسلک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کا کام پارلیمان کرے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کام کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو عدلیہ کی بحالی کے لیے قانونی راستے کے ذریعے کام کرے۔انہوں کہا کہ محض نعرہ لگا دینے سے کام نہیں ہوجاتا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کا قانونی راستہ کیا ہوگا۔ آصف زرادی نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو وہ بے حد خوش ہونگے اور یہ حقیقی طور پر بےنظیر بھٹو کو ایک بڑا خراج عقیدت ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی سے نمٹنا پاکستان کا اپنا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے سیاسی انداز اپنا بھی ضروری ہے۔ |