BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 13:22 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر بھٹو کے بعد نوڈیرو کے انتخابات

بے نظیر بھٹو
بینظیر بھٹو جب اپنا ووٹ ڈالنے آتی تھیں تو نوڈیرو پولنگ سٹیشن ملکی وغیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتا تھا۔
انتخابی مہم کے وقت کے ختم ہونے میں کوئی دو گھنٹے باقی تھے، لاڑکانہ کے تمام روڈ انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے مصروف تھے جب شہر کے العباس چوک پر اچانک نعروں کی آواز بلند ہوئی۔ لوگوں نے کوئی خاص توجہ نہ دی، مگر جب ایک مٹھائی کے دکان پر رش بڑھ گیا تو سب اس طرف متوجہ ہوگئے ۔رک کر دیکھا تو مرتضی بھٹو کے بیٹے ذوالفقار بھٹو جونیئر اپنی والدہ کے انتخابی پرچے دکانداروں میں تقسیم کر رہےتھے۔

اٹھارہ انیس برس کا نو عمر لڑکا سفید شلوار قمیص میں ملبوس تھا اور اس نے روایتی سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھ رکھی تھی۔ د یہی نظر میں کمزور اور شہری لغت میں سلم و کلین شیو نوجوان کو ان کے کارکن احترام سے، جونیئر بابا، کہہ رہے تھے۔

وہ مٹھائی کی دکان سے اترے تو کباب فروش کے پاس پہنچے، توشہر کے معروف کبابی نے انہیں پیار کیا اور ان کے ہاتھ سے ایک پمفلٹ لیا جبکہ پارٹی کارکنان نےنعرے بلند کیے ’بھٹو کا وارث بھٹو ہے‘۔ میں نے رش میں سے آگے بڑھ کر اس نوجوان سے اس امید پر ایک پمفلٹ لیا کہ وہ اپنی والدہ کے ووٹ کے لیے چند الفاظ بولیں گے۔ مگر سیاست کے عوامی انداز میں پہلی مرتبہ قدم رکھنے والا نوجوان مسکرایا اور خاموشی سے چلا گیا۔

ذوالفقار جونئیر کے ساتھ لوگوں کی کوئی بڑی تعداد تو نہیں تھی پھر بھی لوگ انہیں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کی نسبت سے عزت واحترام اور پیار سے دیکھ رہے تھے۔ مگر ان کا پیار غنویٰ بھٹو کے لیے شاید ووٹ میں تبدیل نہ ہوسکے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیگم اور ان کی اولاد دو بیٹیوں اور دو بیٹو ں میں سے کوئی بھی فرد انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا ہے، صرف مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو ایک حلقے سے امیدوار ہیں۔

غنویٰ بھٹو
غنویٰ بھٹو سابق رکن اسمبلی شاہد بھٹو کے مقابلے میں این اے 204 سے امیدوار ہیں
اگر چہ پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو لاڑکانہ کے حلقہ این اے دو سو سات سے الیکشن میں حصہ لے رہی تھیں مگر ان کی ہلاکت کے بعد بھٹو خاندان کے آبائی حلقے پر الیکشن ملتوی کر د یئے گئے ہیں۔

بینظیر بھٹو نے ابتدائی طور پرلاڑکانہ کے دو آبائی حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے این اے دو سو سات کے ساتھ ساتھ این اے دو سو چار سے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ جہاں ان کی مد مقابل ان کے مرحوم بھائی مرتضیٰ کی بیوہ غنویٰ بھٹو تھیں۔ مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر بینظیر بھٹو بعد میں اس حلقے سے دستبردار ہوگئیں اور اپنے کارکن و سابق رکن اسمبلی شاہد بھٹو کو غنویٰ بھٹو کے مقابلے میں امیدوار نامزد کیا۔

لاڑکانہ میں الیکشن کا دن ہمیشہ سے ایک جوش اور ولولے کا دن رہا ہے اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے مطابق انتحاب کے دن کا مزہ ان کے لیے اس وقت مزید بڑھ جاتا تھا جب بینظیر بھٹو ان کے ساتھ ہوتی تھیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن معشوق علی کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو الیکشن کا پورا دن اپنے حلقے کا دورہ کرکے گزارتی تھیں۔ اور جب وہ اپنا ووٹ ڈالنے آتی تھیں تو نوڈیرو پولنگ سٹیشن ملکی وغیرملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتا تھا۔

محترمہ بینظیر بھٹو اپنا ووٹ ڈالنے کےبعد اپنے حلقے کی پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کرتی تھیں۔ان کے ایک پولنگ ایجنٹ کے مطابق محتر مہ بینظیر کے دورے کے بعد نہ صرف پارٹی ایجنٹ بلکہ پولنگ سٹیشن کا تمام عملہ فخر محسوس کرتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کی پیروی کیا کرتی تھیں کیونکہ ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے حلقے این اے دو سو سات کے نتائج سننے کے بعد نوڈیرو سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوتے تھے۔

نوڈیرو ،اسلام آباد اور راولپنڈی کا آپس میں تعلق کتنا تاریخی اور عجیب ہے۔نوڈیرو سے کامیاب بھٹو اسلام آباد میں وزیراعظم، پھر پنڈی سے لاش واپس نوڈیرو، لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ انتخابی سلسلہ ہے یا انتقامی ؟

لاڑکانہ کے العباس چوک پر ذوالفقار بھٹو جونیئر جب اپنی والدہ کے انتخابی پمفلٹ تقیسم کر رہے تھے تو وہاں کے ایک رہائشی وکیل نظام میمن کو اپنے دوست ذوالفقار علی بھٹو بہت یاد آرہے تھے۔

نظام میمن پیپلزپارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی خالد اقبال میمن کے والد ہیں اور وہ وکالت سے ریٹائر ہوکر اپنا وقت گھر میں گزارتے ہیں۔ نظام میمن نے مجھے ایک طو یل ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ انہوں نے انیس سو ستر کی الیکشن مہم کے دوران ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھ ایک ولیز جیپ میں چار دن اور چار راتیں گزاری تھیں۔ نظام کے مطابق شروع شروع میں بڑے خان اور وڈیرے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھے جبکہ ہم جیسے مڈل کلاس وکیل اور پروفیسر ان کے ساتھ تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن مہم چلانے میں غضب کی مہارت رکھتے تھے،نہ خود تھکتے تھے اورنہ کسی ساتھی کو تھکنے دیتے تھے۔ وہ ذوالفقار جونیئر کی انتخابی مہم دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے۔ مگر بعض لوگوں کو امید ہے کہ وقت کے ساتھ وہ بھی سیاست سیکھ جائیں گے۔

لاڑکانہ میں کئی لوگ افسردہ ہیں کہ جس بھٹو کے نام سے پاکستان میں سیاست جانی جاتی ہے، اس بھٹو خاندان کا کوئی فرد الیکشن میں کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ غنویٰ بھٹو کی کامیابی کے لیے دعاگو تو ہیں مگر انہیں غنوی کی کامیابی کی امید بہت کم ہے۔

ایک غمزدہ کارکن کے مطابق الیکشن کے بعد نوڈیرو سے اس مرتبہ کوئی کامیاب رکن اسمبلی وزات عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوگا۔

وجاہت حسینالیکشن 2008
گجرات میں انتخابی کشیدگی اپنے عروج پر
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
انتخابی جلسہکوئی بھی جلسہ نہیں
اس بار انتخابی مہم کا خاتمہ لاہور میں نہیں
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
مولانا فضل الرحمٰناب ووٹ نہیں دیں گے
وزیر، محسود قبائل کے مولانا سےگلے شکوے
بینظیر بھٹو’بینظیر قتل کے بعد‘
قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی میں قربت کب تک؟
اسی بارے میں
پی پی پی کا بڑھتا جوش
11 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد