BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 16 February, 2008 - Published 22:21 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جتنے زیادہ ووٹر دھاندلی اتنی کم‘

نواز شریف
انتخابات کے بعد تمام جماعتوں سے بات کریں گے:نواز شریف
مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کو جتنا زیادہ ٹرن آؤٹ ہوگا اتنے ہی دھاندلی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

انتخابی مہم کے آخری دن لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات والے دن ضرور ووٹ ڈالیں۔

نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ’جس طرح عوام جلسوں میں آتے رہے ہیں اسی طرح پولنگ والے دن ووٹ ڈالنے ضرور جائیں کیونکہ اٹھارہ فروری کا دن تبدیلی کا دن ہے‘۔ ان کے بقول’مسلم لیگ قاف صرف اشتہارات میں نظر آتی ہے اس کی لوگوں کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کے شریک چئرمین آصف زرداری سے ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول’انتخابات کے بعد انیس یا بیس فروری کو دونوں جماعتوں کا اجلاس ہوگا جس میں انتخابات کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا‘۔

نواز شریف نے قومی حکومت کے قیام کے سوال پر کہا کہ انتخابات کے بعد الیکشن میں حصہ لینے اور نہ لینے والی تمام جماعتوں سے بات کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ’سیاسی جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور سیٹ ایڈجسمنٹ کا وقت ختم ہوگیا‘۔

News image
نواز شریف سے ملاقات میں بھی ساتھ چلنے پر بات ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔
آصف علی زرداری

نواز شریف نے سینچر کی رات انتخابی مہم کے آخری چند گھٹنوں میں داتا دربار پر حاضری کے بعد لاہور شہر کے مختلف حلقوں کا دورہ بھی کیا۔ اس سے قبل
سینچر کی دوپہر آصف علی زرداری نے نواز شریف کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی تھی جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے کہا تھا کہ نواز شریف سے ملاقات میں بھی ساتھ چلنے پر بات ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات سے صدر مشرف کے مستقبل کا فیصلہ بھی منسلک ہے اور جہاں تک صدر مشرف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ ہے تو پہلے اس ڈگر تک پہنچنا ہے اور اس کے بعد پارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ ان کے بات کرنا ہے یا نہیں؟

البتہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ چلنے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی نے انہیں بس اتنا ہی مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ اس دن کاانتظار کریں جب اس مرحلے تک پہنچ جائیں گے تو فیصلہ پارٹی اجلاس میں کیا جائے گا۔

انتخابی جلسہکوئی بھی جلسہ نہیں
اس بار انتخابی مہم کا خاتمہ لاہور میں نہیں
نواز شریفالیکشن 2008
لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
بھٹوانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: دوسرا حصہ
ایوب خانانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: پہلا حصہ
احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد