ساٹھ سالہ انتخاب کہانی: آخری حصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے نواز شریف نے اٹھاون ٹوبی کے تحت برطرفی کے اقدام کو صدر کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔ سپریم کورٹ نے چودہ مئی کو برطرف حکومت بحال کردی اور صدر غلام اسحاق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت منجمد ہوگیا۔ چنانچہ فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم اور صدر کو رضامند کرلیا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لئے سبکدوش ہوجائیں۔ اس سمجھوتے کے تحت معین قریشی نئے نگراں وزیرِ اعظم اور غلام اسحاق خان نگراں صدر بن گئے۔ چھ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور نو اکتوبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ایم کیو ایم نے اپنے خلاف فوجی آپریشن کے سبب انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ سن انیس سو ترانوے کو ہونے والے انتخابات میں بھی گزشتہ دو مرتبہ کے انتخابات کی طرح کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکی۔ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی نواسی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے تہتر نشستیں حاصل کیں۔ ووٹنگ کی شرح چالیس فیصد کے لگ بھگ رہی۔ باسٹھ جماعتوں نے اس انتخاب میں حصہ لیا۔ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر مخلوط حکومت بنی جس میں چٹھہ مسلم لیگ اور جے یو آئی بھی شامل تھی ۔لیکن بے نظیر بھٹو کو اسوقت خاصا اطمینان ہوا جو وہ اپنی ہی جماعت کے رہنما فاروق لغاری کو وسیم سجاد کے مقابلے میں صدرِ مملکت منتخب کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔تاہم وہ فاروق لغاری سے بھی اٹھاون ٹو بی کی تلوار چھیننے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔پھر وہی ہوا جو اقتدار کی کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس کے مابین بدگمانی کی مکڑی نے جالا بننا شروع کردیا۔ حکومت کے بارے میں یہ تاثر پھیلتا گیا کہ کمیشن اور کرپشن حدیں اور معیشت کی کمر توڑ رہے ہیں۔
ملک معراج خالد کو نگراں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا ہے جو تین فروری انیس سو ستانوے کو انتخابات کروائیں گے۔ انیس سو ستانوے اگرچہ فروری ستانوے کے انتخابات اناسی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تاہم ووٹنگ کی شرح پچھلے تمام انتخابات کے مقابلے میں بہت کم رہی یعنی تقریباً چھتیس فیصد۔ البتہ پیپلز پارٹی کا گراف اتنا نیچے گرا کہ اسکی نشستیں نواسی سے کم ہو کر صرف اٹھارہ رہ گئیں جبکہ مسلم لیگ نواز کی نشستیں تہتر سے بڑھ کر ایک سو سینتیس تک پہنچ گئیں۔ اتنی اکثریت سے جیتنے کے بعد نواز شریف کا پہلا وار صدر فاروق لغاری پر ہوا جنہیں اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے محروم کرکے پوپلا صدر بنا دیا گیا۔ دوسرا وار بے نظیر بھٹو اور انکے شوہر پر ہوا جن کے پیچھے سینٹر سیف الرحمان کی سربراہی میں احتساب بیورو چھوڑ دیا گیا۔ تیسرا وار فوج پر ہوا جب جنرل جہانگیر کرامت کو نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز پیش کرنے پر گھر بٹھا دیا گیا۔ چوتھا وار پارلیمنٹ پر ہوا جب چودھویں اور پندرہویں ترمیم کے ذریعے اسے ربر سٹمپ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی۔ پانچواں وار عدلیہ پر ہوا جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے جان چھڑانے کے لئے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ ہوا اور برادر ججز دو کیمپوں میں بٹ گئے۔ اسکے نتیجے میں صدر فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ کو گھر جانا پڑا اور رفیق تارڑ کو صدر بنا کر شریف حکومت نے اپنی دانست میں آخری قلعہ بھی فتح کرلیا۔ اور پھر چھٹا وار نئے چیف آف سٹاف جنرل پرویز مشرف پر اسوقت ہوا جب وہ ہوا میں معلق تھے۔لیکن یہ وار خود نواز شریف حکومت پر پڑگیا اور بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو پارلیمنٹ سمیت پورے سسٹم کی بساط الٹ گئی۔ دو ہزار دو
پہلے مرحلے میں ڈپٹی کمشنری کے فرسودہ نظام کے بجائے بلدیاتی سطح پر ناظموں کا سسٹم متعارف کروایا گیا تاکہ ایک وفادار سیاسی طبقہ تشکیل دیا جاسکے۔ پھر متعدد لیگی دھڑوں کو پولٹیکل انجینرنگ کے ذریعے ایک منظم سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کی شکل دی گئی۔ پھر خود کو ایک جائز آئینی صدر بنوانے کے لئے آئین سے بالا صدارتی ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔ تیس اپریل دو ہزار دو کو ہونے والے اس ریفرنڈم کے لئے جیلوں، ہسپتالوں، پٹرول پمپوں، فیکٹریوں، مارکیٹوں، سکولوں اور دیگر سرکاری عمارات میں ستاسی ہزار پولنگ سٹیشن بنائے گئے۔ جس میں کوئی بھی شخص محض اپنے نام کی شناختی دستاویز دکھا کر ووٹ ڈال سکتا تھا۔ چاہے اسکا نام الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں ہے یا نہیں۔اس ریفرنڈم میں ایک سوال پوچھا گیا۔ کیا آپ بلدیاتی نظام کی بقا، جمہوریت کے قیام ، اصلاحات کے تسلسل، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے اور قائدِ اعظم کے خواب کی تکمیل کے لئے صدر جنرل پرویز مشرف کو پانچ برس کے لئے صدرِ مملکت منتخب کرنا چاہیں گے۔ حزبِ اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی نے لوگوں سے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔مگر الیکشن کمیشن کے مطابق اٹھتر ملین ووٹروں میں سے ستر فیصد نے ووٹ ڈالے اور ان میں سے اٹھانوے فیصد نے صدر مشرف کے حق میں فیصلہ دیا۔ ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد سترہویں آئینی ترمیم کے تحت دس اکتوبر دو ہزار دو کو پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔ ووٹر کی عمر اکیس سال سے کم کرکے اٹھارہ سال کی گئی۔ قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر تین سو بیالیس کی گئی۔ ان میں خواتین کے لئے چھیاسٹھ اور اقلیتوں کے لئے آٹھ نشستیں مختص کی گئیں اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں سات سو اٹھائیس کی گئیں۔ اقلیتوں کو انیس سو ستتر کے بعد پہلی دفعہ جنرل نشستوں پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سزا یافتہ افراد کا امیدوار بننا ممنوع قرار پایا ۔امیدوار کی کم از کم تعلیمی استعداد بی اے مقرر کی گئی۔ان انتخابات میں ستتر جماعتوں نے حصہ لیا اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ کی شرح تقریباً بیالیس فیصد رہی۔ نتائج کا اعلان کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی۔ نتائج کے مطابق مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی ایک سو اٹھارہ، پیپلز پارٹی نے اسی، ایم ایم اے نے انسٹھ، مسلم لیگ نواز نے اٹھارہ اور ایم کیو ایم نے سترہ، نیشنل الائنس نے سولہ، مسلم لیگ فنگشنل نے پانچ، مسلم لیگ جونیجو نے تین، پی پی شیر پاؤ نے دو اور باقی جماعتوں نے سات نشستیں حاصل کیں اور یوں ایک اور معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ صدرِ مملکت نے نئی اسمبلی کا اجلاس اسوقت تک طلب نہیں کیا جب تک پیپلز پارٹی کے دس ارکانِ اسمبلی ٹوٹ کر صدارتی کیمپ میں نہیں آگئے۔دس میں سے چھ کو وزیر بنایا گیا۔ فلورکراسنگ کے قانون کو معطل کردیا گیا۔اسکے باوجود مسلم لیگ ق کی قیادت میں مخلوط حکومت کے وزیرِ اعظم میر ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکے۔ تو یہ ہے پاکستان میں ساٹھ برس کے دوران ہونے والے طرح طرح کے انتخابات کی کہانی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||