BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 18 February, 2008 - Published 01:44 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات میں سخت مقابلہ

چودھری شجاعت
نواز لیگ پیپلز پارٹی کی ایک ذیلی شاخ ہے اس لیے اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے: شجاعت
پاکستان کے قلیل المدت سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے آبائی ضلع گجرات میں قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلیوں کی آٹھ نشستوں کے لیے آج انتہائی کشیدگی اور خوف کے ماحول میں ووٹنگ ہورہی ہے۔

گجرات کی تمام نشستوں پر بظاہر اصل مقابلہ مسلم لیگ (ق)، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کے درمیان ہے۔ لیکن چودھری شجاعت کہتے ہیں کہ نواز لیگ پیپلز پارٹی کی ایک ذیلی شاخ ہے اس لیے ان کا اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔

گجرات شہر سے چودھری شجاعت حسین حلقہ ایک سو پانچ سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے احمد مختار اور مسلم لیگ (ن) کے سید علی ہارون شاہ ہیں اور دیگر امیدوار ہیں۔بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے ہمدردی کی لہر اور مسلم لیگ (ن) کے سرگرم ہونے کی وجہ سے چودھری شجاعت حسین کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین کے بقول وہ سیالکوٹ سے بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ لیکن چودھری شجاعت حسین کہتے ہیں کہ وہ جیت کے لیے پر امید ہیں اور سیالکوٹ سے پارٹی میں اس نشست پر اختلافات کی وجہ سے انہوں نے خود حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

چودھری شجاعت حسین کے حریف پیپلز پارٹی کے احمد مختار الزام لگاتے ہیں کہ وہ پولیس اور اشتہاریوں کی مدد سے حوف ہراس پھیلا رہے ہیں۔ ’میرا مقابلہ ریاست سے ہے، صدر مشرف سے ہے کیونکہ ساری ریاستی مشینری چودھری شجاعت کو جتوانے کے لیے دھاندلی میں مصروف ہے،۔

چودھری شجاعت کہتے ہیں کہ ان کے مخالفیں کو شکست نظر آرہی ہے اس لیے الزامات لگا رہے ہیں۔’اب وہ زمانہ نہیں کہ لوگ پولیس اور محافظوں کے ڈر کی وجہ سے ووٹ دیں، بلکہ لوگ باشعور ہیں اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیتے ہیں،۔

یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین کو اس حلقہ سے انیس سو ترانوے میں احمد مختار نے شکست دی تھی لیکن بعد میں مسلسل دو بار یہاں سے چودھری شجاعت حسین فاتح قرار پائے ہیں۔


جلال پور جٹاں اور گرد و نواح کے علاقے پر مشتمل گجرات کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چار میں چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین کا پیپلز پارٹی کے مولانا غضنفر گل اور مسلم لیگ نواز کے سید فیصل عباس کے درمیاں سخت مقابلہ ہے۔ اس حلقہ سے مولانا غضنفر گل انیس سو ترانوے میں جیتے لیکن بعد میں دو بار مسلسل چودھری وجاہت جیتے۔

کچھ مقامی صحافیوں کے مطابق اس حلقہ میں بھی تکونی مقابلے اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے ہمدردی کی لہر کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی پوزیشن بظاہر مستحکم نظر آتی ہے۔ اس حلقہ میں سن دو ہزار دو کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح باون فیصد تھی۔

سن دو ہزار دو کے انتخابات میں گجرات کی چار میں سے دو نشستیں مسلم لیگ (ق) اور دو نشستیں پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے جیتی تھیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کے ایک منتخب رکن قومی اسمبلی چودھری رحمٰن نصیر نے بعد میں وفاداری تبدیل کرکے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت کرلی تھی۔

سن دو ہزار دو میں گجرات کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چھ جوکہ لالہ موسیٰ اور قرب وجوار کے علاقوں پر مشتمل ہے اس میں تقریبا باون فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کائرہ تراسی ہزار چار سو اٹھتیس ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے۔

ان کے حریف قومی اتحاد کے میاں افضل حیات نے انہتر ہزار آٹھ سو چھبیس ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ تیسرے نمبر پر پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار چودھری محمد اصغر نے پانچ ہزار ایک سو اٹھانوے ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس بار بھی اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قمر الزمان کائرہ ہی ہیں جبکہ مسلم لیگ نواز کے کرنل (ر) میاں محمد اکرم ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ کے (ق) کے سید نورالحسن شاہ ہیں۔ قمرالزمان کائرہ کے ایک بھائی بینظیر بھٹو کے ہمراہ ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں ہلاک ہوگیا تھے۔ اس حلقہ میں مقامی صحافیوں کے بقول اب بھی پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے۔

کھاریاں اور آس پاس کے علاقے پر مشتمل گجرات کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو سات سے سن دو ہزار دو میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتنے والے چودھری رحمٰن نصیر کا اب مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر پیپلز پارٹی کے راجہ مسعود احمد اور مسلم لیگ نواز کے محمد جمیل ملک کے ساتھ مقابلہ ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے ان کے امیدواروں کے حق میں ہمدردری کی لہر اور مسلم لیگ (ق) اور نواز لیگ کا ووٹ بینک تقسیم ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن مستحکم ہے۔

سکیورٹی اہلکاربلوچستان الیکشن
684 امیدوار اور ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار
نواز شریفالیکشن 2008
لاہور میں انتخابی مہم یا پوسٹر مقابلہ
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
ضیاءالحقانتخاب کہانی
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخابی تاریخ: تیسرا حصہ
اشتہارکروڑوں کے اشتہار
انتخابی خرچ اعلان کردہ آمدن سے کہیں زیادہ
سندھ انتخابی جائزہ
بینظیر کی ہلاکت نے انتخابی منظرنامہ بدل دیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد