مخصوص نشستیں اور خواتین سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ انتخابات میں مجموعی طور پر اسی ملین سے زیادہ ووٹروں میں خواتین ووٹروں کی تعداد چھتیس ملین ہے۔ اس کے باوجود عام نشستوں پر خواتین امیدواروں کی تعداد ماضی کی طرح چند درجن سے زیادہ نہیں ہے۔ آپ کو یاد ہوگا۔ کہ 2002 کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی دو سو بہتر ارکان کی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستیوں کی تعداد یہ کہہ کر بڑھا ئی گئی تھی کہ اس اقدام سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے باوجود کہ اگر پاکستان کی قومی سیاست کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عورت کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی تاریخ قیام پاکستان سے قبل ہی شروع ہوجاتی ہے۔ جس میں محترمہ فاطمہ جناح، رعنا لیا قت علی خان اور شائستہ اکرام اللہ جیسے نام نمایا ں نظر آتے ہیں۔ تاہم کئی عشروں تک خواتین سیاستدانوں کی تعداد معدودے چند ہی رہی۔ حالیہ سیاسی تاریخ میں بےنظیر بھٹو جیسے قدآور نام کا اضافہ ہوا۔ مگر ان سب کا شمار موروثی سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ایک عام پڑھ لکھی عورت قومی ایوان تک تو کیا۔ مقامی سیاست میں بھی کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کر پائی۔ صحافی سید شمعوں ہاشمی عورتوں مسائل اور ایسے ہی موضوعات پر کالم بھی لکھتے ہیں۔ اور پارلیمان میں خواتین کی کارکردگی پر بھی نظر ہے۔کہتے ہیں کہ اصولی طور پر پالیمان میں مخصوص نشستیں بڑھانے کے فیصلے کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ پیپلز پارٹی جیسی جماعت جس کی سربراہ خود ایک خاتون تھیں۔ بمشکل دو یا تین عورتیں عام نشتوں پر انتخاب لڑ کر قومی ایوان تک پہنچ پائیں۔ اور یہی صورت حال دوسری پارٹیوں میں تھی۔
ایسے ماحول میں خواتین کی مخصوص نشتوں کی بحالی کو مثبت سمت میں ایک قدم تو ضرور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس سے زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ خواتین ارکان قانون سازی میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے زیادہ تر رائے شماری میں تعداد پوری کرنے کی حد تک قانون سازی کے عمل میں شریک ہوئیں۔ مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی فوزیہ وہاب نے اس تنقید کو مسترد کرتی ہیں کہ خواتین قانون سازی میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں نے دو سو سے زیادہ بل تیار کیے اب یہ اور بات کہ وہ پارلیمان میں زیر بحث نہیں آ سکے۔ مگر خود فوزیہ اس رائے سے متفق تھیں کہ مخصوص نشتوں کی بحالی اور اضافے کے باوجود عورتوں کی سیاسی حثیت میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آ سکی۔ البتہ ان کا کہنا ہے۔ کہ مردوں کے رویہ میں اس قدر فرق ضرور پڑا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں خواتین کی آواز قدرے سنجیدگی سے سنی جانے لگی ہے۔ مگر اس قدر نہیں کہ کسی خاتون کی کاردگی سے متاثر ہوکر اسے عام نشست پر انتخاب لڑنے کا پروانہ بھی دیدیا جاتا۔
موجودہ انتخابات میں ایسی عوتوں کی تعداد ایک بار بہت قلیل رہی۔ خود فوزیہ وہاب بھی ان خواتین میں شامل ہیں جو پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی مخصوص نشست کے لیے منتخب کی گئیں عام نشست کے لیے ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ سابق حکمراں جماعت قائد اعظم مسلم لیگ کی رکن اسمبلی مہناز رفیع کئی مرتبہ مگر صرف مخصوص نشستوں کے راستے ہی ہی اسمبلی تک پہنچ سکی ہیں۔ اس سوال پر کہ آخر ہر مرتبہ خصوصی نشست ہی کیوں۔ مہناز رفیع نے اعتراف کیا مخصوص نشتوں میں اضافے کے باوجود عام عورت تو دور کی بات ہے۔ خود سیاسی خاندنوں میں بھی ابھی تک عورتوں کو صرف اسی صورت میں سامنے لایا جاتا ہے۔ جب اس خاندان کے مرد کسی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے۔ کہ پاکستان کی اکثریتی اور پسے ہوئے طبقے کی عورت کی آواز قومی ایوان تک نہ پہنچ پائی۔ سابق رکن قومی اسمبلی بیگم نیسم ولی خان قومی سطح پر تو نہیں مگر صوبہ سرحد میں سیاست میں ایک بڑا نام رہی ہیں، سمجھتی ہیں۔ اسمبلی میں محض مخصوص نشستوں میں اضافے سے خواتین کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ جو عورت اپنے بھائی والد یا شوہر کے کندھوں پر سوار ہوکر قومی یا صوبائی پارلیمان تک پہنچتی ہے۔ پختہ سیاسی شعور کا مظاہر نہیں کرپاتی۔ تاہم بیگم نسیم ولی خان جو کوئی دس برس تک عوامی نشینل پارٹی کی سربراہ بھی رہی ہیں۔ سمجھتی ہیں کہ سیاسی منظر نامہ میں عورتوں کے سامنے نہ آنے کا ایک اہم سبب خواتین میں تعلیم کی کمی بھی ہے۔ یہ حقیقت تلخ سہی۔ مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ کئی عشروں سے جاری روایات میں تبدیلی چند برسوں میں ممکن نہیں اور مرد امیدواروں کے مقابلے میں عورتوں کے لیے عام نشستوں کا حصول آسان نہیں۔ بہر حال سیاسی عمل میں عورتوں کی شمولیت کی وجہ تعلیم کی کمی ہو، موروثی سیاست کا اثر و رسوخ یا سماج میں مردوں کی بالا دستی، مخصوص نشتوں کی تعداد میں کتنا ہی اضافہ کیوں نے کردیا جائے قومی سطح پر کسی ٹھوس تبدیلی کی توقع اس وقت تک نہیں کی جا سکتی جب تک کہ نچلی سطح پر سیاسی پارٹیوں کا کلچر تبدیل کر کے پارٹیوں میں خواتین کو ٹکٹ دینے کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ جس کے لیے ضروری ہوگا کہ سب سے پہلے پارٹیوں میں عورتوں کو سرگرم سیاسی کارکن بننے کی ترغیب دی جائے اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||