BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 18 February, 2008 - Published 14:41 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع

خیال کیا جاتا ہے کہ توڑ کی سیاست میں مسلم لیگ قاف بھی برابرکا حصہ ڈالے گی۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنما انتخابات کے فوری بعد تمام جمہوری سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے ممکنہ تعلقات کے اشارے بھی دیے ہیں لیکن جوڑ توڑ کی سیاست میں مسلم لیگ قاف بھی برابرکا حصہ ڈالے گی۔

انتخابی عمل سے ملنے والے اشاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دو ایسی بڑی سیاسی قوتیں بن کر سامنے آرہی ہیں جو آئندہ کے ملکی حالات پر اثرات مرتب کریں گی۔

ابتدائی انتخابی نتائج نے بظاہر یہ اشارہ تو دیدیا ہےکہ پاکستان مسلم لیگ چاہے وہ نون ہو یا قاف،ملکی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے چلی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کون سی مسلم لیگ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملائے گی؟

نون یا قاف یا پھر دونوں مسلم لیگیں پیپلز پارٹی سےمفاہمت کو ٹھکرا اقتدار کی جنگ ایک نئے سرے سے شروع کریں گی۔

ابتدائی نتائج کے آتے ہی مختلف مسلم لیگی حلقوں میں ،جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف کے اتحاد کی باتیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔

سنئیر صحافی اور کالم نویس انور قدوائی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ اصل میں پیپلز پارٹی مخالف ووٹ کامنبع ہے اور اس کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے ان کا نقصان ہو رہا ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دونوں دھڑے ذاتی اختلافات بھلا کرایک ہوجائیں اسی میں تمام مسلم لیگیوں کا بھلا ہے۔

نظریاتی طور پر دونوں مسلم لیگیں بظاہر دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں لیکن ملکی سیاست میں بعض ایسی اہم معاملات ہیں جو ان کے اتحاد میں رکاوٹ ہیں۔

مثال کے طورپر صدر پرویز مشرف کا معاملہ ہی لے لیجیئے۔ایک طرف وہ مسلم لیگ قاف کے لیے انتہائی مقدس ہیں تو دوسری طرف میاں نواز شریف انہیں غیر قانونی صدر کہتے ہیں اور بظاہر ان کا کم از کم صدر مشرف کے ساتھ گذارا نہیں ہو سکتا۔

دونوں کے درمیان الحاق میں ایک بڑی رکاوٹ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہ اعلان جنگ ہے جو میاں نواز شریف اپنی پریس کانفرنس میں بار بار کرتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ قاف کے چودھری برادران سٹیبلشمنٹ سے بنائے کر رکھنا چاہتے ہیں۔

تو مسلم لیگوں کے اتحاد میں ذاتی اختلافات کے علاوہ بھی کچھ اہم معاملات رکاوٹ ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ اب صدر مشرف حامی قوتیں مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی کوایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کریں ایسی صورت میں دو لاشیں آڑے آتی ہیں، ایک بینظیر بھٹو کی ہے اور دوسری چودھری ظہور الہی کی۔
شجاعت حسین پیپلز پارٹی کو اپنے والد کا قاتل قرار دیتی ہے اور اصف زرداری مسلم لیگ قاف کو قاتل لیگ کہتےہیں۔

نواز شریف
پی پی پی اور مسلم لیگ نواز جمہوری جماعتوں کو یکجا کرنا شروع کردیا ہے

تو پھراس کام کے لیے مسلم لیگ قاف میں سے اسی طرح ایک نیا بچہ بھی پیدا ہوسکتا ہے جیسے مسلم لیگ نون سے مسلم لیگ قاف بنی تھی اور پیپلز پارٹی کی کوکھ سے پیٹریاٹ نے جنم لیا تھا۔ نئی مسلم لیگ کھڑی ا سٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی نیا اور انوکھا کام نہیں ہے کیونکہ ہر آمر نے اپنے اقتدار کے لیے ہمیشہ ایک نئی مسلم لیگ پیدا کی ہے۔

نئی مسلم لیگ پیدا کرنا کسی ڈکٹیٹرکے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے کیونکہ ہر آمر نے اپنے اقتدار کے لیے ہمیشہ ایک نئی مسلم لیگ پیدا کی ہے۔

سنہ دوہزار دو میں بھی آزاد امیدوار اور ایک سرکاری مسلم لیگ نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے دس اراکین کو ساتھ ملا کر ایک ووٹ کی برتری سے حکومت بنالی تھی۔

دانشور اور صحافی حسین نقی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ بذات خود کوئی حقیقی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ پہلے مارشل لاء کے بعد سے ہر فوجی آمر اپنے لیے ایک نئی مسلم لیگ کھڑی کرتا رہا ہے۔

یہ تو تھا ایک کلیہ یعنی قاف جمع پی پی برابر ہے صدر مشرف حامی اتحاد۔اب ذرا مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد پر غور کرتے ہیں جونظریاتی طور پر تو غیر فطری نظر آتا ہے لیکن اگر نظریہ صرف صدر مشرف کی مخالفت ہوتو پھر دونوں ایک ہوسکتے ہیں۔اس صورت میں مسلم لیگ نون کایہ موقف آڑے آسکتاہے جو نواز شریف نے پولنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے بیان کیا۔

الیکشن کمیشن
سبھی سیاسی جماعتوں کی اب نظر نتائج پر ہيں

انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف اس سیاسی جماعت کی حمایت کریں گے جس کا اولین کام عدلیہ کو چیف جسٹس افتخار چودھری سمیت دو نومبر سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرانا ہوگا۔نواز شریف نے اپنی ساری انتخابی مہم اس ایک نکتے کےگرد گھما دی تھی۔

بس یہی وہ نکتہ بھی ہے جہاں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ممکنہ تعلقات میں پہلی بڑی رکاوٹ آجاتی ہے کیونکہ درمیان میں ہے قومی مفاہمتی آرڈیننس ہے۔

اس آرڈیننس کے تحت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو بعض مقدمات میں رعایت ملی تھی لیکن چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس رعایت کے خلاف سماعت شروع کردی تھی اب پیپلز پارٹی کے آصف زرداری عدلیہ کا آزادی کی بات تو کرتے ہیں لیکن عدلیہ کی دو نومبر والی پوزیش پر بحالی پر انہیں کچھ تحفظات ہیں۔

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ساتھ چل سکیں گی یا نہیں لیکن اگر دونوں مسلم لیگوں یعنی نون اور قاف کا اتحاد ہوا تو اس کا مطلب دنوں میں سے کم از کم ایک کی موت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موت اسٹیبلشمنٹ نواز مسلم لیگ قاف کی ہوتی ہے یا پھر اس مسلم لیگ کی جو اب عوامی سیاست کے زور پر زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔

الیکشن کمیشن’الیکشن 2008‘
قبل از الیکشن عمل غیرمنصفانہ: مبصرین
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف کی وضاحت
’شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری‘
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
اسی بارے میں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد