انتخابات میں ایسی خونریزی پہلے کبھی نہ تھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمیشہ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بروقت انتخابات کا نہ ہونا ہی ملک کے سیاسی، انتظامی اور ریاستی بحرانوں کی جڑ ہے۔ لیکن 18 فروری کو ہونے والے انتخابات ملکی تاریخ کے پہلے انتخابات ہوں گے جو بروقت ہونے کے باوجود پاکستان میں سیاسی انتشار کا باعث بن سکتے ہیں۔ پولنگ شروع ہونے سے پہلے پچھلے سال بیس نومبر سے جاری انتخابی مہم کے دوران اب تک 200 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل کسی بھی انتخابی مہم کے دوران اس پیمانے پر خونریزی نہیں دیکھی گئی۔ ان ہلاکتوں میں سب سے اہم پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کا قتل تھا جس نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی سمت ہی بدل ڈالی بلکہ ایسے نئے خطرات کو جنم دیا جو مستقبل قریب میں ملکی سالمیت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل سے پہلے جاری انتخابی مہم بنیادی طور پر ویسی ہی تھی جیسی ہمیشہ دیکھنے میں آتی ہے۔ ان دوران ہونے والے خود کش حملوں سمیت پُرتشدد واقعات کا تعلق انتخابات سے کم اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مشرف حکومت کی پالیسیوں سے زیادہ تھا۔
بیس نومبر سے ستائیس دسمبر تک انتخابی مہم میں وہی کچھ سننے اور دیکھنے کو ملا جس کی توقع تھی۔ بینظیر بھٹو نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم کو اپنی مہم کا محور بنایا، نواز شریف نے اپنے ماضی کے حلیف اور حال کے حریف بلکہ سیاسی دشمن چوہدری پرویز الٰہی کو پڑھے لکھے پنجاب کا ان پڑھ وزیر اعلٰی ٹھہرایا اور جواباً چوہدری پرویز الٰہی نے میاں نواز شریف کو ایک ایسا سیاسی بھگوڑا بتایا جس کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے یہ سیاستدان دیکھنے اور سننے والوں کو خالصتاً پاکستانی لگے جو ایک دوسرے پر زہر میں بجھے تیر چلانے کے باوجود پاکستان اور پاکستان کے وفاق کی سیاست کر رہے تھے۔ لیکن بینظیر بھٹو کے قتل نے اس صورتحال کو راتوں رات یوں بدل ڈالا کہ پنجابی، سندھی اور پشتون تو سیاسی میدان پر چھائے نظر آئے لیکن پاکستانی اس منظر سے یکایک غائب ہو گئے۔ تین دن ملک بھر میں غدر رہا۔ کہا گیا کہ پنجاب کے فوجی شہر راولپنڈی نے ایک اور سندھی رہنما کی لاش سندھ بھیجی ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ قاف کے قاف کو قاتل بنایا گیا اور افواہیں پھیلائی گئیں کے سندھ بھر میں غیر سندھیوں کا قتل و غارت کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے چوہدری برادران نے صرف غیر سندھیوں کے لیے ریلیف کیمپ لگانے کا اعلان کیا۔ غیر سندھی لڑکیوں کے ساتھ زنا بالجبر کی جھوٹی خبروں کے عکس اخباری اشتہارات میں شائع کیے گئے اور مشرف حکومت نے ہمیشہ کی طرح اپنی ذمہ داری نا قبول کرنے کے لیے ان فسادات کا سارا ملبہ نا معلوم جرائم پیشہ افراد پر ڈال کر خود کو ان تین روزہ فسادات سے بری الذمہ ٹھہرایا۔ ملک بھر میں تاثر یہ پھیلا کہ پاکستان خانہ جنگی کے دہانے پر ہے اور وفاق کی دھجیاں بکھرنے والی ہیں۔ یوں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے لیے ایک نیا سیاسی سیاق و سباق طے ہوا۔ اٹھارہ فروری کو ووٹ ڈالنے والے کی نیت خواہ کچھ بھی ہو انتخابات کے بعد اس کے ووٹ کو اسی سیاق و سباق کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔ پاکستان میں جاری انتخابی بحث میں فی الحال اس نئے سیاق و سباق کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ بات ابھی تک صدر مشرف کے سیاسی مستقبل سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ مبصرین کا اصرار ہے کہ اٹھارہ فروری کا الیکشن دراصل صدر مشرف کے خلاف ریفرینڈم ہو گا۔
کاش ایسا ہی ہوتا۔ کیونکہ اس صورت میں یا تو صدر مشرف صدر رہتے یا نہ رہتے اور بات یہاں سے آگے بڑھ جاتی۔ لیکن اگر اٹھارہ فروری کے انتخابات کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ان انتخابات میں صدر مشرف کے سیاسی مستقبل یا ان کے اقتدار سے متعلق مسائل کی جگہ شاید ایک نقطے برابر بھی نہیں۔ اس نئے منظر نامے میں صرف اور صرف خطرات ہیں۔ عوام کی سیاست کے لیے بھی، ریاست کی مضبوطی کے لیے بھی اور وفاق کی وحدت و یکجہتی کے لیے بھی۔ اور اس سے قطعی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار صدر مشرف ہیں یا کوئی اور۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے منظرنامے میں عوامی توقعات سیاسی حقائق سے متصادم ہو چکی ہیں۔ عوام کے ذہن میں اٹھارہ فروری کے انتخابات بینظیر بھٹو کے نام ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بارہا کہہ چکے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے خون کا واحد خراج پاکستان پیپلز پارٹی کا اقتدار میں آنا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔ عام فہم سیاسی تجزیہ بھی یہی ہے کہ بینظیر بھٹو کو جس بیدردی سے قتل کیا گیا اس کے رد عمل میں اٹھنے والی ہمدردی کی لہر ہر دوسری جماعت کو بہا لے جائے گی۔ لیکن زمینی صورتحال اس سے قدرے مختلف ہے۔ پنجاب بھر میں کہیں بھی بینظیر بھٹو سے ہمدردی کی لہر میں وہ شدت نظر نہیں آتی جو فی الوقت سندھ کا مقدر بن چکی ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق صوبہ پنجاب میں ذات برادری ابھی تک سیاست پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت کئی امیدواروں نے انتخابی مہم کا آخری ہفتہ صرف اور صرف اپنے ووٹروں کو آصف زرداری کے اقتدار میں آنے کے امکان سے ڈرانے میں گزارا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کئی حلقوں میں یہ ڈراوا سنجیدگی سے سنا گیا ہے۔
لہٰذا عین ممکن ہے کہ ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی وہ واضح برتری نہ حاصل کر سکے جس کی عوام کو توقعات ہیں اور عوامی رائے کے برعکس پاکستان مسلم لیگ قاف اگر حکومت نہ بھی بنا سکے تو بھی ایک اتنی مضبوط اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے کہ نئی حکومت کے ہاتھ بندھ جائیں۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال نہ تو پی پی پی کو قابل قبول ہو گی اور نہ ہی مسلم لیگ نواز کو۔ احتجاج ہو گا اور ماضی کے برعکس اس احتجاج میں مسلم لیگ نواز کی شمولیت کی وجہ سے یہ سندھ کے علاوہ پنجاب میں بھی زور پکڑ سکتا ہے۔ صدر مشرف سختی سے کہہ چکے ہیں کہ وہ بعد از انتخابات احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن مسلم لیگ نواز اگر پنجاب کو بھی دھاندلی کے خلاف احتجاج میں گھسیٹ لیتی ہے تو صدر کی جانب سے ایسے کسی احتجاج کو کچلنے کی کوشش ملک کو خون خرابے کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ کچھ عرصے کی مارا ماری کے بعد فوجی قیادت صدر مشرف کی مزید حمایت سے معذرت کر لے، الیکشن کالعدم قرار دے دیے جائیں اور موجودہ ضلعی حکومتوں سمیت محمد میاں سومرو کی نگران حکومت کو چلتا کر کے ایک نئی انتظامیہ کے تحت دوبارہ الیکشن کرا دیے جائیں۔ لیکن اگر میاں نواز شریف انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پنجاب کو احتجاج پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے تو سندھ میں یہ تاثر جڑیں پکڑ لے گا کہ نہ صرف پنجابی سیاستدان بلکہ پنجابی عوام بھی سندھ کے دکھ درد میں شریک نہیں۔ اور ایسے حالات میں ابھرنے والی سیاست وفاق کے مستقبل کے لیے زہر ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک بھر میں پھیلی خوف کی فضا کی اصل وجہ بھی شاید یہی ہے۔ |
اسی بارے میں کون سچا، کون جھوٹا؟02 August, 2005 | پاکستان سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ09 November, 2007 | پاکستان بینظیر فیصلوں کے بعد آئیں: مشرف12 October, 2007 | پاکستان بینظیر فیصلوں کے بعد آئیں: مشرف12 October, 2007 | پاکستان قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار08 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||