ملٹری فارم مزارعین کا اپنا امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں مزارعین کی تحریک کے مرکز اوکاڑہ ملٹری فارم ہاؤس کے مزارعین بھی اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنے امیدوار کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کےحلقہ ایک سو اکانوے پر پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف کے مقابلے میں انجمن مزارعین پنجاب کےجنرل سیکرٹری مہر عبدالستار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پچیس فارم ہاؤسز ہیں جہاں پر فوج، رینجرز اور حکومت کے ساتھ مزارعین کے کئی سالوں سے تنازعات چل رہے ہیں۔ ایک اندازے کےمطابق ان فارم ہاؤسز کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے اور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو سے ڈھائی لاکھ ہو سکتی ہے۔ انجمن مزارعین پنجاب کے دونوں گروپوں نے صوبہ بھر کے مزارعین کو ووٹ ڈالنے کےحوالے سے مقامی سطح پر فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے کہ جو امیدوار ان کو مناسب لگیں وہ ان کی حمایت کریں۔ اوکاڑہ ملٹری فارم صوبہ میں واقع دیگر فارم ہائوسز میں سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے۔ انجمن مزارعین کے امیدوار مہر عبدالستار کے مطابق فارم ہاؤس بیس دیہات پر مشتمل ہےاور اس میں پچیس ہزار رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ مقامی یونین کونسل کے دو مرتبہ ناظم رہنے والے مہر عبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دو ہزار دو میں بھی انتخابات لڑنا چاہتے تھے لیکن ان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کےان کے کاغذات نامزدگی مسترد کروائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ مزارعین کے حقیقی نمائندے ہیں ۔
مہر ستار کا کہنا تھا کہ اگر چہ مرکزی سطح پر انجمن نے کسی بھی بڑی جماعت کی حمایت کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تاہم ان کےخیال میں مزارعین کے ووٹ کا ایک بڑا حصہ پیپلز پارٹی کو مل سکتا ہے۔ انجممن مزارعین پنجاب کے دوسرے گروپ کے رہنما یونس کے مطابق مزارعین کا ووٹ کسی ایک جماعت کو ملنے کی توقع نہیں ہے اور وہ ہر حلقے میں امیدوار کی مناسبت سے ووٹ ڈالیں گے۔ ان کے مطابق یہ تاثر مناسب نہیں ہے کہ مزارعین کا زیادہ ووٹ پیپلز پارٹی کو ملے گا بلکہ ہر فارم ہائوس کے مزارعین یہ دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ مستقبل میں کون سا امیدوار ان کے کام آ سکتا ہے پھر چاہے اس کی وابستگی کسی بھی جماعت سےکیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اوکاڑہ کے مزارعین قومی اسمبلی سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار سابق وزیر دفاع رائو سکندر کو ووٹ دیں گے کیوں کہ راؤ سکندر نے حکومت کے آخری ایام میں مزارعین کے بہت سے مسائل حل کروائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ کیوں کہ بینظیر بھٹو نے کئی بار اوکاڑہ ملٹری فارم کےمزارعین پر ہونے والے مظالم کے خلاف بات کی تھی اس لیے مزارعین ان کی کی جماعت کو ووٹ دیں گے تو پھر نواز شریف اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی مزارعین کو حقوق دینے کی بات کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزارعین صرف اس کو ووٹ دیں گے جو مقامی سطح پر مزارعین کے مسائل حل کروائے گا جبکہ مہر ستار ان کے اس موقف سے متفق نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ راؤ سکندر کی حکومت میں مزارعین کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس طرح طاقت کے ذریعے ان کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے ان کا خون بہایا گیا وہ مزارعین کیسے بھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’جہاں تک کسی پارٹی کی حمایت کا تعلق ہے تو انجمن نے کسی جماعت کی حمایت کا اعلان نہیں کیا مزارعین اور کسی کو ووٹ دیں یا نہ دیں لیکن وہ قاف لیگ کو ووٹ نہیں ڈالیں گے‘۔ واضح رہے کہ پنجاب کے دس اضلاع میں اوکاڑہ ملٹری فارم ، ملٹری ڈیری فارم لاہور، ملٹری ڈیری فارم سرگودھا، ملٹری ڈیری فارم ملتان، ملٹری ڈیری فارم رینالہ خورد اوکاڑہ، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ پاکپتن اوکاڑہ، الہ آباد کیٹل فارم خانیوال، جہانگیر آباد کیٹل فارم خانیوال سمیت پچیس فارم ہاؤسز ہیں جن میں سے اوکاڑہ، لاہور اور پاکپتن کے ملٹری فارمز کے مزارعین مختلف اوقات پر زمین کے مالکانہ حقوق کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں وسطی پنجاب کے اشاریے: سڑکیں زیادہ، پانی کم25 January, 2007 | پاکستان مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے10 May, 2007 | پاکستان سرکاری اراضی لیز پر دینے کی نئی پالیسی 24 April, 2007 | پاکستان فوج جھک گئی، سڑک کھل گئی05 February, 2005 | پاکستان ’اوکاڑہ تنازعہ، انتظامیہ بے بس‘07 December, 2004 | پاکستان اوکاڑہ محاصرہ: مویشی خطرے میں26 July, 2004 | پاکستان ملٹری فارمز: مزارعین کامحاصرہ25 July, 2004 | پاکستان زمیندار فوج13 July, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||