وسطی پنجاب کے اشاریے: سڑکیں زیادہ، پانی کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی پنجاب فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور کے تین ڈویژنوں میں منقسم تھا۔ یہ خطہ سڑکوں کے اعتبار سے ترقی یافتہ کہا جاسکتا ہے لیکن خواندگی اور پینے کے پانی کی دستیابی کے اعتبار سے پسماندہ ہے۔ نئے انتظامی ڈھانچہ میں ڈویژن کی حد بندی ختم کردی گئی ہے لیکن سابقہ ڈویژنوں کی تقسیم کے اعتبار سے پنجاب کےمختلف علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی کو دیکھا جائے تو ہر ڈویژن میں شامل اضلاع میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کا دوسرے ڈویژن کے علاقوں سے واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ پاکپتن، وہاڑی اور ساہیوال کے اضلاع کو بھی وسطی پنجاب میں شمار کیا گیا ہے۔ پنجابی زبان بولنے والے وسطی پنجاب میں یہ سب سے پسماندہ اضلاع ہیں۔ یہاں دس فیصد سے بھی کم آبادی کو نلکے کا پانی میسر ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کے اعتبار سے یہ تین اضلاع پنجاب کے سب سے پسماندہ اضلاع ہیں۔ پاکپتن اور وہاڑی میں یہ شرح اموات (فی ایک ہزار) ایک سو ستائیس اور ایک سو چودہ ہے۔ ان تین ضلعوں میں خواندگی کی شرح بھی تقریباً چالیس فیصد ہے جو کہ وسطی پنجاب کے دوسرے اضلاع سے کم ہے۔ فیصل آباد کے تینوں اضلاع (فیصل آباد، شیخوپورہ، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ) سڑکوں کے عالمی معیار (نصف کلومیٹر فی مربع کلومیٹر) کو یا تو عبور کرچکے ہیں یا تقریباً پورا کر چکے ہیں۔ صرف جھنگ (صفر اعشاریہ چوالیس کلومیٹر سڑک) اس معیار سے ذرا سا پیچھے ہے۔ تاہم پینے کے پانی کی فراہمی کے اعتبار سے یہ علاقہ خاصا پسماندہ ہے۔ جھنگ میں تو صرف چھ فیصد لوگوں کو نلکے کا پانی دستیاب ہے۔ فیصل آباد اور شیخوپورہ جیسے بڑے صنعتی ضلعوں میں صرف سترہ اٹھارہ فیصد آبادی کو نلکے کا پانی میسر ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے اضلاع (گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، سیالکوٹ اور نارووال) سڑکوں کے اعتبار سے ترقی یافتہ ہیں اور کئی ضلعوں میں مقررہ معیار سے زیادہ سڑکیں بن چکی ہیں۔ خواندگی کے اعتبار سے بھی یہ اضلاع ساٹھ فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم پینے کے پانی کی صورتحال اس علاقہ میں بھی پسماندہ ہے۔ ضلع منڈی بہاؤالدین میں صرف ڈھائی فیصد آبادی کو نلکے کا پانی دستیاب ہے۔ حافظ آباد میں صرف سات فیصد کو صاف پانی میسر ہے۔ حکمران جماعت کے صدر شجاعت حسین کے ضلع گجرات میں اسی فیصد آبادی کو نلکے کا پانی میسر نہیں۔ گوجرانوالہ جیسے بڑے صنعتی ضلع میں صرف اٹھارہ فیصد آبادی کے لیے نلکے کا پانی موجود ہے۔ لاہور ڈویژن (لاہور، قصور، اوکاڑہ) میں سڑکیں مقررہ عالمی معیار سے زیادہ بن چکی ہیں لیکن قصور اور اوکاڑہ میں خواندگی کی شرح پچاس فیصد سے بھی کم ہے اور پینے کا صاف پانی صرف بارہ اور تیرہ فیصد آبادی کو دستیاب ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور جیسے بڑے شہر اور ضلع میں تیس فیصد آبادی کو نلکے کا پانی میسر نہیں۔ |
اسی بارے میں وسطی پنجاب: ترقی کے اعداد و شمار25 January, 2007 | پاکستان شمالی پنجاب: ترقی کے اعداد و شمار24 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||