شمالی پنجاب کے اشاریے: پڑھا لکھا پنجاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی پنجاب میں پوٹھوہاری بولنے والے وہ اضلاع جو پہلے راولپنڈی ڈویژن کا حصہ تھے (راولپنڈی، جہلم، اٹک اور چکوال) پنجاب کے سب سے ترقی یافتہ اضلاع کہے جاسکتے ہیں۔ گو نئے انتظامی ڈھانچہ میں ڈویژن کی حد بندی ختم کردی گئی ہے لیکن سابقہ ڈویژنوں کی تقسیم کے اعتبار سے پنجاب کےمختلف علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی کو دیکھا جائے تو ہر ڈویژن میں شامل اضلاع میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کا دوسرے ڈویژن کے علاقوں سے واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ شمالی پنجاب میں آٹھ اضلاع شامل ہیں: راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سرگودھا، خوشاب، بھکر اور میانوالی۔ راولپنڈی ڈویژن میں سڑکوں کی دستیابی اور خواندگی کی شرح خاصی بلند ہے تاہم یہاں بھی پینے کے پانی کی دستیابی گو پنجاب کے دوسرے حصوں سے بہتر ہے لیکن مقررہ معیار سے خاصی پیچھے ہے۔ راولپنڈی ضلع میں سڑکوں کی کثافت عالمی بنک کے معیار (نصف کلومیٹر فی مربع کلومیٹر) سے زیادہ ہے جبکہ اس ڈویژن کے دوسرے ضلعوں میں اس معیار کے قریب ہے۔ صرف اٹک (موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز کا حلقہ انتخاب) کا ضلع ایسا ہے جہاں سڑکیں مقررہ معیار سے خاصی کم (ایک چوتھائی کلومیٹر فی مربع کلومیٹر) ہیں۔ راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع میں نلکے کے ذریعے پینے کا پانی تقریباً نصف آبادی کو دستیاب ہے اور نصف سے دو تہائی تک آبادی خواندہ ہے۔ تاہم شمالی پنجاب میں سرگودھا ڈویژن کے اضلاع جیسے میانوالی، خوشاب اور بھکر بہت پسماندہ ہیں۔ بھکر میں صرف تین فیصد آبادی کو نلکے کاپانی دستیاب ہے۔ سرگودھا جیسے بڑے شہر کے ضلع میں جو ایئر فورس کا مرکز اور شاہینوں کا شہر کہلاتا ہے، نلکے کا پانی صرف پندرہ فیصد آبادی کو دستیاب ہے۔ |
اسی بارے میں شمالی پنجاب: ترقی کے اعداد و شمار24 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||