پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے زیادہ تر انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کے مطابق سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی پوزیشن مضبوط تر ہو رہی ہے اور مرکز میں یہی دونوں جماعتیں بڑی پارٹیاں بن کر سامنے آئی ہیں۔ اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں 87، پاکستان مسلم لیگ نواز نے 66 جبکہ پاکستان مسلم لیگ قاف نے 39 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایم کیو ایم کو 19، اے این پی کو 10، ایم ایم اے کو صرف دو نشستیں ملی ہیں جبکہ 26 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اب تک اس نے 89 نشستیں جیتی ہیں۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو 44 نشسوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ سرحد میں اے این پی 26 نشستیں حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔ بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں سابق حکمراں جماعت قاف لیگ کو 13 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہوئی ہے۔ انتخاب جیتنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم بھی شامل ہیں جنہیں مبصرین آئندہ کے سیاسی سیٹ اپ میں اہم کردار ادا کرتے دیکھ رہے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی کی چار میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مخدوم امین فہیم نے مٹیاری سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی ہے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد حکومت سازی کا عمل منگل کے روز ہی شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کر رکھا ہے جبکہ اسی تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے کئی اہم رہنماؤں اور سابق وفاقی وزراء کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلم لیگ قائد اعظم کے صدر چودھری شجاعت حسین گجرات اور سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے ہار گئے ہیں۔ گجرات سے قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 105 سے انہیں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار احمد مختار نے شکست دی ہے جبکہ سیالکوٹ سے قومی اسمبلی نشست این اے 112 سے انہیں پاکستان مسلم لیگ نواز کے رانا عبدالستار کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی بہاولپور اور چکوال سے مسلم لیگ نواز کے امیدواروں سے قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے ہیں جبکہ وہ اٹک سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار آصف احمد علی سے قومی اسمبلی کی سیٹ ہار گئے ہیں جبکہ سابق وزیر شیخ رشید احمد کو بھی راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق وفاقی وزراء غلام سرور خان، لیاقت جتوئی، اویس لغاری، ہمایوں اختر خان، چودھری شہباز خان، ڈاکٹر شیر افگن نیازی، وصی ظفر، مشتاق چیمہ اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین بھی اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری طرف سابق وزراء داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور مخدوم فیصل صالح حیات اپنی سیٹوں پر جیت گئے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے چارسدہ سے کامیابی حاصل کی جبکہ مخدوم فیصل صالح حیات جھنگ سے اپنی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی بھی قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست سے ہار گئے ہیں جبکہ ایک ایک سیٹ سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے چوبیس سے پی پی پی کے امیدوار بیرسٹر فیصل کریم کنڈی سے ہارے ہیں جبکہ بنوں سے وہ آزاد امیدوار ناصر خان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف اسفندیار ولی چارسدہ سے تو اپنی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے لیکن صوابی سے آزاد امیدوار عثمان ترکئی کے مقابلے میں ہار گئے ہیں۔ جیتنے والے اہم امیدواروں میں اے این پی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور، پی پی پی کے ارباب عالمگیر، پاکستان مسلم لیگ کے ہمایوں سیف اللہ، پاکستان مسلم نواز کے چودھری نثار علی خان، معروف کالم نگار ایاز امیر، سابق وفاقی وزیر سمیرا ملک، حنا ربانی کھر، پاکستان مسلم لیگ نواز کے احسن اقبال، پی پی پی کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی، سابق سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو، سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین اور سابق وزیر چودھری عبدالغفور شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||