BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 19 February, 2008 - Published 13:26 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف

 نواز شریف
نواز شریف نے کہا کہ اب قوم نے اپنا فیصلہ دیا ہے
پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر مشرف اب اپنی آنکھیں کھولیں کیونکہ انہوں نے خود کہا تھا کہ اگر قوم نے مسترد کردیا تو چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب قوم نے اپنا فیصلہ دیا ہے۔

قومی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ (ن) کے حق میں آنے کے بعد وہ ماڈل ٹاؤن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ بحال ہوگی اور صدر مشرف کا معاملہ اسی عدلیہ کے پاس جائے گا جس کے زیر سماعت ان کے امیدوار ہونے کی اہلیت کا کیس تھا۔

صدر مشرف نے تین نومبر کو ایک’ پی سی او‘ کے تحت عدلیہ کو معزول کردیا تھا۔معزول ہونے والی عدلیہ میں اس بنچ کے اراکین بھی شامل تھے جو صدر مشرف کی اہلیت کا مقدمہ سن رہے تھے۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنے اس ایجنڈے پر کاربند ہیں جس کا وہ الیکشن سے پہلے اعلان کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایجنڈا عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی، اور ہمیشہ کے لیے سیاست سے فوج کے کردار کے خاتمے کا ہے اور وہ اس ایجنڈے پر آج بھی اسی طرح سے کاربند ہیں۔

 ہم کل( بدھ کو) اسلام آباد جا رہے ہیں جہاں ان کی آصف زرداری سے ملاقات متوقع ہے، سب مل بیٹھیں گے اور مستقبل کے بارے میں بات کریں گے
نواز شریف

صدرپرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے میں نوازشریف کی حکومت کو معزول کرکے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

اب تک کے انتخابی نتائج سے لگتا ہے کہ نواز شریف اب دوبارہ حکومت سازی کے عمل میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوئی مخلوط حکومت بنانے کا سوچ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ کل یعنی بدھ کو اسلام آباد جارہے ہیں جہاں ان کی آصف زرداری سے ملاقات متوقع ہے جبکہ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی کو بھی اسلام آباد بلایا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ سب مل بیٹھیں گے اور مستقبل کے بارے میں بات کریں گے۔نواز شریف نے مسلم لیگ نون کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بھی اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے جہاں وہ اپنے ساتھیوں سے مستقبل کے لائحہ عمل پر صلاح ومشورہ کریں گے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کے دوران ان پر کئی وار کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نے الیکشن ایسے لڑے کہ جیسے ہم چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابھی بھی دھاندلی کے خلاف لڑ رہے ہیں کیونکہ آج بھی این اے ایک سو پچاس سے ان کے جیتے ہوئے امیدوارکو نتائج میں گڑ بڑ کرکے ہارا ہوا قرار دے دیا گیا ہے۔


انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے چودھری اعتزاز احسن کو وزیر اعظم بنانے کی کوئی تجویز دی تھی۔ ایم کیو ایم کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اس کے بارے میں وہ جو پہلےکہہ چکے ہیں اس پر قائم ہیں۔میاں نواز شریف نے ماضی میں ایم کیو ایم سے اتحاد کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ نہیں بلکہ میڈیا کہہ رہا کہ قوم نے بڑے بڑے برج الٹ دیے ہیں۔ان کے کہنا تھا کہ ’قاف لیگ والوں کو اللہ نے فارغ کیا ہے۔‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں انہوں نے مزید کوئی بات کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس بارے میں وہ اپنا موقف پہلے ہی واضح کرچکے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں واقعی انتخابات کا بائیکاٹ کرتیں تو وہ بھی بائیکاٹ کردیتے۔

الیکشن کمیشن’الیکشن 2008‘
قبل از الیکشن عمل غیرمنصفانہ: مبصرین
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف کی وضاحت
’شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری‘
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
اسی بارے میں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد