پشتون انتہا پسند نہیں: اسفندیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کا کہنا ہے کہ پشتونوں نے ووٹ کے ذریعے انکی جماعت کو واضح برتری دلاکر عالمی قوتوں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر یہ واضح کردیا ہے کہ پشتون انتہا پسند اور دہشت گرد قوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے ناطے انکی جماعت دوسری جماعتوں سے ملکر حکومت بنانے کی کوشش کرے گی جبکہ مرکزی حکومت میں ایشیوز کی بنیاد پر اتحاد قائم کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کے پشتونوں نے اے این پی جیسی معتدل جماعت کو انتخابی برتری دلاکر گیند عالمی قوتوں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں پھینک کر انہیں یہ پیغام دیا کہ پشتون مین الحیث القوم انتہا پسند اور دہشت گرد نہیں ہیں۔ انکے مطابق’ پشتونوں نے اتخابی نتائج سے پوری دنیا کو یہ پیغام دیدیا ہےکہ ہمیں بندوق نہیں قلم، گولیاں نہیں کتابیں ، خودکش بمبار کے جیکسٹس نہیں بلکہ سکول کے یونیفارم چاہئیں۔، مستقبل میں صوبہ اور مرکز میں حکومت سازی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہونے کےبعد اے این دیگر پارٹیوں سے ملکر حکومت بنانے کی کوشش کرے گی۔ تاہم انکے بقول مرکز میں انکی جماعت ایشیوز کی بنیاد پر دیگر پارٹیوں کیساتھ اتحاد کرنے کو ترجیح دے گی۔انکے مطابق’ پاکستان بالخصوص پشتونوں کی سرزمین پر امن کا قیام،، صوبائی خودمختاری کا حصول، ہمسایوں کیساتھ بھائی چارے کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے جیسے ایشیوز پر مرکز میں دیگر جماعتوں کیساتھ اتحاد کیا جائے گا۔جبکہ ہم یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کریں گے کہ اس ملک میں کوئی آقا یا غلام نہیں بلکہ یہاں پر چار بھائی رہتے ہیں ۔، ان سے جب پوچھا گیا کہ انتخابی کمپئن کے دوران اے این پی تواتر کیساتھ حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگاتی رہی تو کیا اب بھی انکی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے تو اسکے جواب میں اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ’ امیدواروں کی حدتک ضرور دھاندلی ہوئی ہوگی تاہم اگر حکومت دھاندلی کرتی تو کیا اسکے اہم ستون چودھدری شجاعت حسین، شیخ رشید اور قومی اسمبلی کےاسپیکر سمیت دیگر وزراء شکست سے دوچار ہوتے۔، | اسی بارے میں مخصوص نشستیں اور خواتین سیاست18 February, 2008 | الیکشن 2008 خواتین ووٹ ڈالنے نہیں نکلیں19 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت19 February, 2008 | الیکشن 2008 اٹک: رشتوں کی سیاست19 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی اسمبلی کے نئے چہرے19 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||