اٹک: رشتوں کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کا دورہ کرنے کے بعد کم از کم اس بات کا تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اٹھاون سے فاتح کون ہوگا۔ بہترین سڑکیں، بس سٹاپس، گاؤں گاؤں پانی اور کاشتکاروں کو آبپاشی کے لیے سہولتیں، ایسے ترقیاتی منصوبے تھے جنہوں نے یہاں کے باسیوں کے دل جیت لیے تھے۔ اور تو اور اس کا اعتراف یہاں کی مخالف جماعتوں کو بھی تھا۔ یہ ایک حلقہ تھا شاید جہاں ملک کے دیگر حصوں کے برعکس گلی نالی پختہ کرنے پر نا کے قومی ایشوز پر ووٹ ڈالا گیا۔ اس حلقے میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کو یہ کامیابی اگر دلائی تو اس کا سہرا دو مرتبہ اس ضلع کے ناظم میجر (ر) طاہر صادق کے سر ہوگا۔ ان کی کامیابیوں کی وجہ دو پرویز قرار دیے جاسکتے ہیں: ایک صدر پرویز مشرف اور دوسرے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی۔ دونوں نے سرکاری فنڈز کی بوریوں کے منہ کھول دیے یا پھر یہ ناظم کی بہتر انتظامی صلاحیتیں ہیں جو انہیں اتنا مقبول بنائے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے زرعی اور عسکری اعتبار سے اہم ضلع اٹک میں اس مرتبہ قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں۔ ضلعی ناظم نے تینوں پر اپنے رشتہ داروں کو کھڑا کیا۔ ان میں ایک پر بیٹی ایمان وسیم، دوسری پر داماد وسیم گلزار اور تیسرے پر سابق وزیر اعلی اور اپنے ہم زلف چوہدری پرویز الہی کو کھڑا کیا۔ اگرچہ دو حلقوں میں وہ بیٹی اور داماد کو تو منتخب نہیں کرواسکے لیکن پھر بھی چوہدری پرویز الہی کی جیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ علاقے کے ووٹروں پر اپنی گرفت ایک حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ سال دو ہزار دو کے عام انتخابات میں بیٹی ایمان وسیم کو منتخب کروایا، پھر انہیں دو ہزار چار میں اتار کر اسی نشست پر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی انتخابی ضرورت پوری کی۔ اٹک شہر پہنچے تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے ان کی بیٹی نہیں وہ خود ایک آزاد امیدوار کی طور پر میدان میں ہیں۔ ان کی بیٹی کے بڑے بڑے انتخابی بینرز اور پوسٹرز پر ان کی بیٹی کی نہیں بلکہ باپ کی تصویر سجی ہوئی ہے۔ ایک غیرسرکاری گروپ کی نشاندہی پر یہ بینرز ہٹانے کا حکم کہیں سے جاری ہوا تھا لیکن لوگوں نے بتایا کہ دوسرے روز پھر درو دیوار پر آویزاں ملے۔ حیرت صرف سائیکل کی بجائے پنکھے کے انتخابی نشان پر ہوا۔ چوہد ھری پرویز الہی تو ہیں ہی مسلم لیگ سے لیکن داماد کو بھی اسی پلیٹ فارم سے کھڑا کروایا۔ لیکن اسے عقلمندی کہیں یا سیاسی انشورنس کہ انہوں نے بیٹی کو مسلم لیگ قاف سے نہیں بلکہ بطور آزاد امیدوار میدان میں اتارا۔ اس کے پیچھے جو سوچ کارفرماں تھی وہ شاید یہ تھی کہ اگر مسلم لیگ قاف کے خلاف کوئی لہر چلی تو بیٹی کی وجہ سے ’بچ بچا‘ ہو جائے گی اور مستقبل کی کسی بھی جماعت کی حکومت میں شامل ہوسکیں گے۔ تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنا آخر کہاں کی ذہانت ہے۔ لیکن یہ سیاسی چال ایمان وسیم کی ہار کی وجہ سے ناکام ہی ہوئی ہے۔ بیٹی اور داماد کے حلقوں میں قدرے مخالف رائے بھی دیکھنے کو ملی۔ کافی متحرک سیاسی مخالفین بھی تھے اور ناقدین بھی۔ لیکن چوہدری پرویز الہی کا دیہی علاقوں پر مشتمل حلقہ اکثریتی طور پر یک زبان قاف کے حامی دکھائی دیئے۔
شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں ووٹر بڑی تعداد میں صبح سے ہی پولنگ سٹیشن پہنچ چکے تھے۔ گورنمٹ سکول چونترہ پرویز الہی کے حلقے کا حصہ ہے۔ شہری علاقوں کی طرز پر پولنگ سٹیشن کے باہر قناتیں کرسیاں نہیں بلکہ دیہی سٹال میں چارپایاں اور کئی کارکن نظر آئے۔ دو واضع کیمپس تھے۔ ایک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا اکٹھا اور دوسرے تھوڑی دوری پر قاف کا۔ قاف کے کیمپ میں ہلچل زیادہ تھی۔ ایک دیہاتی کارکن نے کہا کہ سابق حکومت نے نہایت اہم پل تعمیر کر کے دیا، گھر گھر پانی پہنچایا اور سڑکیں بنائیں لہذا ان کے لیے وہ اچھے رہے۔ اس کی تصدیق کے لیے مخالف گروپ سے بات کی تو انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ کام بہت ہوا ہے بس بات تو مختلف سوچ کی ہے۔ لیکن مسلم لیگ قاف کو اس طرح کی حمایت اور کارکردگی کے دعووں کا صلہ باقی علاقے میں نہیں ملا۔ واپسی پر اس حلقے کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ کون جیتے گا تاہم باقی دو حلقوں کے بارے میں نتیجہ واضع نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں پشاور: پولنگ زیادہ تر سست رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 انتہائی خوف کی فضا میں پولنگ جاری18 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 مخصوص نشستیں اور خواتین سیاست18 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||