BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 18 February, 2008 - Published 12:08 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: پولنگ زیادہ تر سست رہی

شہر کے پیشتر علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح کمی رہی
پشاور سمیت صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں پیر کی صبح پولنگ کا آغاز پولیس کی سخت نگرانی اور خوف کے سائے میں ہوا۔ ابتدائی تین گھنٹوں کے دوران پولنگ کی رفتار انتہائی سست رہی لیکن بعد اس میں تھوڑی بہت تیزی نظر آئی۔

پشاور شہر میں مختلف پولنگ سٹیشنوں کے باہر امیدواروں کی طرف سے بڑے بڑے انتخابی کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں پر لوگوں کے ہجوم نظر آئے۔


پولیس ذرائع کے مطابق شہر میں انتہائی حساس قرار دیئے جانے والے بتیئس پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کے معائنے کے بعد شروع کی گئی۔

پشاور میں قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستوں کے لیے کل 149 امیدوار مدمقابل ہیں۔ شہر میں 833 پولنگ سٹیشن اور 2355 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

شہر کے پیشتر علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح کمی رہی جبکہ بعض دیہاتی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح شہری علاقوں کے نسبت بہتر رہی۔

شہر کے امیرانہ علاقوں ڈیفنس، یونیورسٹی روڈ، صدر، حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن میں سڑکیں اور بازار سنسان دکھائی دیے جبکہ پولنگ عملے کے مطابق یہاں ووٹ ڈالنے کی شرح بھی کم رہی۔

حلقہ این اے چار پشاور میں گورنمینٹ ہائی سکول ہزار خوانی میں میں بنائے گئے ایک پولنگ سٹیشن میں دوپہر دو بجے تک کل سو کے قریب ووٹ ڈالے گئے تھے جبکہ یہاں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 2200 ہے۔

خواتین کے بعض پولنگ سٹیشنوں پر دن بارہ بجے کے وقت چار سے دس ووٹ ڈالے گئے تھے جبکہ بعض علاقوں میں یہ تعداد پچیس سے پچاس کے درمیان رہی۔

شہر میں انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کی سخت سکیورٹی رہی۔ ان مراکز کے چاروں اطراف میں خار دار تاریں بچھائی گئیں جہاں گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا گیا۔

پشاور شہر میں دوپہر چار بجے تک پولنگ بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کی جاری رہی۔ چند علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلمینٹرینز کے خواتین پولنگ ایجنٹوں میں تلخ کلامی کے واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات کے علاوہ باقی تمام اضلاع سے کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔

سوات میں پولیس ذرائع کے مطابق تین مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ہنگو میں نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ایک پولنگ سٹیشن کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
انتخابی عملہ ’نہیں کرنی ڈیوٹی‘
انتخابی عملہ الیکشن ڈیوٹی سے خوفزدہ
وجاہت حسینالیکشن 2008
گجرات میں انتخابی کشیدگی اپنے عروج پر
بے نظیر بھٹو ’بھٹو کا وارث بھٹو‘
بے نظیر بھٹو کے بعد نوڈیرو کے انتخابات
کلثوم نوازکلثوم بھی میدان میں
نواز شریف کی اہلیہ بھی انتخابی مہم میں شریک
خطرے کی گھنٹیاں
ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک کے انتخابی معرکے
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد