BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 16 February, 2008 - Published 21:32 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’الیکشن قوم کو فوج سے لڑانے کو‘

آل پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ کے رہنماء عمران خان
پاکستان میں کبھی بھی حقیقی جمہوریت نہیں آئی:عمران خان
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عوام سے ایک بار پھر یہ اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات کو مسترد کر دیں اور اٹھارہ فروری کو ووٹ ڈالنے نہ جائیں۔

یہ اپیل سنیچر کو لاہور میں اے پی ڈی ایم کی الیکشن مخالف مہم کے آخری جلسے میں کی گئی۔

جلسے میں لوگوں نے ہاتھوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رنگ برنگے جھنڈے اور بینرز اُٹھارکھے تھے اور وہ فراڈ الیکشن بائیکاٹ، گو مشرف گو اور مشرف کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگا رہے تھے۔

لوگوں نے جو بینرز ہاتھوں میں اُٹھا رکھے تھے اُن پر ’اگر بجلی نہیں، آٹا نہیں، امن نہیں اور عدلیہ نہیں تو ووٹ بھی نہیں’ جیسی عبارتیں درج کی گئی تھیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ’پاکستان میں کبھی بھی حقیقی جمہوریت نہیں آئی اور حکومت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی غلام رہی ہے‘۔اُنہوں نے کہا کہ’ہماری جنگ انتخابات کے بعد اُنیس فروری کو شروع ہوگی اور جو حکومت بھی آئے گی ہمارا اُس سے مطالبہ ہوگا کہ معزول ججوں کو بحال کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں الیکشن کے بعد صدر مشرف کا مقابلہ کرنے کے لیےسڑکوں پر نکلیں گی‘۔

اُن کے مطابق وہ ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں جس میں افتخار محمد چودھری کے تحت الیکشن کمیشن بنا کر انتخابات کروائے جائیں بصورت دیگر وہ اس الیکشن کو تسلیم نہیں کریں گے۔

عمران خان نے الطاف حسین اور پرویز الہی پر کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ الطاف حسین نے بارہ مئی کو پچاس لوگوں کا قتل کروایا جبکہ صدر مشرف نے اُن کو اپنی بغل میں بِٹھا رکھا ہے۔ عمران کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد بیس فروری کو دوبارہ جلسہ کیا جائے گا تاہم جلسے کے مقام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

جلسے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن شریک ہوئے

جلسےسے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ یہ انتخابات اپنی قوم کو فوج سے لڑانے اور امریکی ایجنڈے پر عمل درآمد کروانے کے لیے منعقد کروائے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر جنرل اشفاق پرویز کیانی حقیقت میں فوج کوسیاست سے نکال کر اس کی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل سکیورٹی کونسل کو ختم کر کے پاکستانی علاقوں میں تعینات فوج کو واپس بُلایا جائے۔

اُن کے بقول’برطرف کیے جانے والے ججوں کا گناہ یہ ہے کہ اُنہوں نے آئین کی حفاظت کا حلف اُٹھایا تھا اور پرویز مشرف کی وفاداری کا حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا‘۔

محمود خان اچکزئی نے لاہور میں اپنی زندگی کے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ہمیں ہر طرح کے اختلافات کو بھلا کر کہ ان حالات میں پاکستان کو ترقی کی راہ کی طرف گامزن کرنا چاہیے‘۔ اس جلسے سے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، عبدالقادر مگسی، فرید احمد پراچہ اور لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

جلسے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جلسہ گاہ کے اندر اور باہر پولیس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات تھے۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے رضاکار بھی سکیورٹی پر مامور تھے اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد