’الیکشن قوم کو فوج سے لڑانے کو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عوام سے ایک بار پھر یہ اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات کو مسترد کر دیں اور اٹھارہ فروری کو ووٹ ڈالنے نہ جائیں۔ یہ اپیل سنیچر کو لاہور میں اے پی ڈی ایم کی الیکشن مخالف مہم کے آخری جلسے میں کی گئی۔ جلسے میں لوگوں نے ہاتھوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رنگ برنگے جھنڈے اور بینرز اُٹھارکھے تھے اور وہ فراڈ الیکشن بائیکاٹ، گو مشرف گو اور مشرف کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوگوں نے جو بینرز ہاتھوں میں اُٹھا رکھے تھے اُن پر ’اگر بجلی نہیں، آٹا نہیں، امن نہیں اور عدلیہ نہیں تو ووٹ بھی نہیں’ جیسی عبارتیں درج کی گئی تھیں۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ’پاکستان میں کبھی بھی حقیقی جمہوریت نہیں آئی اور حکومت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی غلام رہی ہے‘۔اُنہوں نے کہا کہ’ہماری جنگ انتخابات کے بعد اُنیس فروری کو شروع ہوگی اور جو حکومت بھی آئے گی ہمارا اُس سے مطالبہ ہوگا کہ معزول ججوں کو بحال کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں الیکشن کے بعد صدر مشرف کا مقابلہ کرنے کے لیےسڑکوں پر نکلیں گی‘۔ اُن کے مطابق وہ ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں جس میں افتخار محمد چودھری کے تحت الیکشن کمیشن بنا کر انتخابات کروائے جائیں بصورت دیگر وہ اس الیکشن کو تسلیم نہیں کریں گے۔ عمران خان نے الطاف حسین اور پرویز الہی پر کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ الطاف حسین نے بارہ مئی کو پچاس لوگوں کا قتل کروایا جبکہ صدر مشرف نے اُن کو اپنی بغل میں بِٹھا رکھا ہے۔ عمران کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد بیس فروری کو دوبارہ جلسہ کیا جائے گا تاہم جلسے کے مقام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
جلسےسے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ یہ انتخابات اپنی قوم کو فوج سے لڑانے اور امریکی ایجنڈے پر عمل درآمد کروانے کے لیے منعقد کروائے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر جنرل اشفاق پرویز کیانی حقیقت میں فوج کوسیاست سے نکال کر اس کی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل سکیورٹی کونسل کو ختم کر کے پاکستانی علاقوں میں تعینات فوج کو واپس بُلایا جائے۔ اُن کے بقول’برطرف کیے جانے والے ججوں کا گناہ یہ ہے کہ اُنہوں نے آئین کی حفاظت کا حلف اُٹھایا تھا اور پرویز مشرف کی وفاداری کا حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا‘۔ محمود خان اچکزئی نے لاہور میں اپنی زندگی کے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ہمیں ہر طرح کے اختلافات کو بھلا کر کہ ان حالات میں پاکستان کو ترقی کی راہ کی طرف گامزن کرنا چاہیے‘۔ اس جلسے سے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، عبدالقادر مگسی، فرید احمد پراچہ اور لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ جلسے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جلسہ گاہ کے اندر اور باہر پولیس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات تھے۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے رضاکار بھی سکیورٹی پر مامور تھے اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ:اے پی ڈی ایم ریلی پرلاٹھی چارج16 February, 2008 | پاکستان الیکشن بائیکاٹ مہم لاہور میں 15 February, 2008 | پاکستان ’جدو جہد اٹھارہ فروری کے بعد بھی‘03 February, 2008 | پاکستان انتخابات تو ڈھونگ ہیں: اپوزیشن 06 February, 2008 | پاکستان عمران خان ایک بار پھر سندھ بدر 07 February, 2008 | پاکستان غیر فوجی حکومت ضروری ہے: قاضی09 February, 2008 | پاکستان انتخابات لڑنے پر رکنیت منسوخ07 February, 2008 | پاکستان بینظیر قتل کیخلاف احتجاج کا اعلان02 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||