BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 February, 2008, 21:55 GMT 02:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز لیگ: امیدوار سمیت چارہلاک

 نون لیگ دفتر
نواز لیگ کے حامی انتخابی دفتر پر حملے کے بعد ’قاتل لیگ‘ کے خلاف نعرے لگاتے رہے
لاہور سے مسلم لیگ نواز کے صوبائی حلقہ کے امیدوار چودھری آصف اشرف اپنے ڈرائیور اور سیکریٹری سمیت ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل لاہور ہی میں مسلم لیگ نواز کے انتحابی دفتر پر فائرنگ کے نتیجےمیں ایک شخص ہلاک جبکہ سات زخمی ہو گئے۔

چودھری آصف اشرف لاہور سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی ایک سو چوّن سے مسلم لیگ نواز گروپ کے امیدوار تھے۔

چودھری آصف اشرف پر نامعلوم افراد نے ان کے انتخابی حلقے کے گرین ٹاؤن میں فائرنگ کردی جس کی نیتجے میں آصف اشرف، ان کے ماموں اور گارڈ سمیت سات افراد زخمی ہوئے جن کو جناح ہسپتال پہنچایا گیا۔چودھری آصف اشرف ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئے۔ان کے ڈرائیور اور سیکریٹری بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما نصیر بھٹہ ، ملک پرویز ، مسلم لیگ کے ترجمان خواجہ عامر رضا سمیت سینکڑوں کارکن ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور اس موقع پر مشتعل کارکنوں نے شدید نعرہ بازی کی۔

اس س قبل اتوار کی شام مسلم لیگ نون کے گوالمنڈی میں ریلوے روڈ پر واقع انتخابی دفتر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور سات افراد زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کے بعد انتخابی دفتر کے باہر موجود لوگ قاتل لیگ ہائے ہائے اور لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

انتخابی دفتر کے اندر بیٹھے مسلم لیگ کے ایک کارکن واجد خان کا کہنا تھا کہ وہ دفتر کے اندر بیٹھے تھے کہ دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور اُنہوں نے اندھا دھندھ فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں عا لم خان نامی شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا اور ایک خاتون سمیت سات افراد زخمی ہوگئے۔

ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ پولیس اکرام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ کسی سیاسی رنجش کا نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔ اُن کے بقول مانو بٹ نامی ایک شخص کا چند دن پہلے کسی کے ساتھ جھگڑا ہواتھا اور فائرنگ کرنے والوں کا ٹارگٹ مانو بٹ تھا جو اس وقت میو ہسپتال میں زیر علاج ہے۔لیکن مسلم لیگی کارکن پولیس کا موقف تسلیم نہیں کرتے اور اس فائرنگ کا الزام مخالف سیاسی جماعت پر لگا رہے ہیں۔

ایک کارکن ندیم منظور بٹ کا کہنا تھا کہ یہ فائرنگ مسلم لیگ قاف نے علاقے میں خوف وہراس پھیلانے کے لیے کی ہے تاکہ لوگ خوف کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہ جاسکیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کرنے والوں کا ٹارگٹ مانو بٹ تھا تو وہ ہلاک کیوں نہیں ہوا اور باقی سات لوگ کیوں زخمی کیے گئے۔

اس علاقے سے مسلم لیگ نون کے صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ پندرہ دن پہلے بھی اسی دفتر پر فائرنگ کی گئی تھی اور یہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے عینی شاھدین اس وقت زخمی حالت میں ہیں اور اُن کی حالت بہتر ہونے کے بعد اُن کے بیانات کے مطابق قصورواران کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے گا۔

اسی بارے میں
نواز لیگ کے انتخابی کیمپ سے
19 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد