BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 February, 2008, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھاندلی ہوئی تو ملک گیر تحریک

نواز شریف پریس کانفرنس کرتے ہوئے
اگر دھاندلی ہوئی تو ملک گیر تحریک چلے گی: نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے انتخابی عمل میں شامل سنیئر افسروں کو خاص طور پر متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ دھاندلی میں ملوث ہوئے تو انہیں معاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایسے لوگوں کو معاف کرنا ان کے بقول پاکستان کی بقا سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔

یہ بات انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ نون کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہی۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ رات دھاندلی کا جو پلان بنایا گیا وہ ان کے علم میں آچکا ہے اور لیکن بعض معلومات وہ بوجوہ عام نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ حب الوطنی اور ضمیر کے نام پرمتعلقہ حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہرطرح کے دباؤ اور لالچ سے بلند ہوکر منصفانہ انتخابات کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پلان یہ ہے کہ الیکشن کہیں اور نتائج کہیں اور مرتب کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دھاندلی ہوئی تو ایسی ملک گیر تحریک چلے گی کہ دھاندلی کرنے والے اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔ نواز شریف کی پریس کانفرنس میں ملک کے اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم کی وہ ٹیلی فونک گفتگو بھی سنائی گئی جو ہیومین رائٹس واچ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

ملک میں امن وامان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی سے ڈرنے کے ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے وہ ووٹ ڈالنے ضرور جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام خوفزدہ نہ ہوں بلکہ ملک و قوم کے لیے دو تین گھنٹے نکالیں اور پولنگ سٹیشنوں پر پہنچیں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں اور میڈیا نے بھی خطرات مول لیکر ان کی کوریج کی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کی پریس کانفرنسوں پر میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کی پابندیوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس کی یہ پابندی اسی طرح غیر قانونی ہے جس طرح پرویز مشرف کی صدارت غیر قانونی ہے۔

 مسلم لیگ نون کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی ہے اور اسی لیے وہ پہلے سے ہی دھاندلی کا الزام لگانا شروع ہوگئی ہے
ترجمان، مسلم لیگ (ق) پنجاب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پولنگ کے بعد انیس یا بیس کو تمام جمہوری پارٹیاں مل بیٹھیں گی اور مستقبل کا لائحہ عمل بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں، وہ بھی ان کا حصہ ہیں وہ انہیں بھی بلائیں گے یا خود چل کر ان کے پاس چلے جائیں گے۔

پریس کانفرنس میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے ورکر دھاندلی کے ہر حربے کو ناکام بنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام انیس فروری کو نواز شریف کو وزیراعظم دیکھنا چا ہتے ہیں تو ووٹ ضرور ڈالیں۔

میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس کے جواب میں مسلم لیگ قاف کے وزریراعظم کے غیر اعلانیہ امیدوار چودھری پرویز الہیٰ نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس بلائی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں صرف شکریہ کی اجازت دی ہے۔ ان کی جگہ مسلم لیگ پنجاب کے ترجمان سنیٹر کامل علی آغا نے خطاب کیا اور کہا:’مسلم لیگ نون کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی ہے اور اسی لیے وہ پہلے سے ہی دھاندلی کا الزام لگانا شروع ہوگئی ہے‘۔

الیکشن کمیشن’الیکشن 2008‘
قبل از الیکشن عمل غیرمنصفانہ: مبصرین
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف کی وضاحت
’شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری‘
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
اسی بارے میں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد