سیاست سے فوج کا کردار ختم ہو: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ پاکستان کی فوج سرحدوں کی حفاظت کے لیے بنائی گی تھی لیکن یہ پاکستانیوں کے خلاف ہی جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ سب انتہائی گندی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔’ ہماری فوج اپنے ہی گھر میں لڑ رہی ہے۔‘ میاں نواز شریف نے ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جل رہا ہے، ہر طرف کشت و خون ہے، قبائلی علاقوں میں فوج تعینات ہے، کچھ سمجھ نہیں آتی ہے کہ کیا ہورہا ہے؟ سابق وزیر اعظم نے موجودہ حکمرانوں پر بین الاقوامی دباؤ کا اپنے دور سے موازانہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں بھی امریکی صدر نے پانچ فون کیے، دو فون ٹونی بلیئر سے کروائے لیکن ہم نے پاکستان کوایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔‘ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آج ایٹمی اثاثوں پر انگلی اس لیے اٹھائی جارہی ہے کہ ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے پاکستان کا مستقبل غیر یقینی بنا دیاگیا ہے اور یہ بحث عام ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستانی کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی میں ایسے بھی جرنیل تھے جن کے سامنے جب یہ بات رکھی گئی کہ ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کو بھی ایٹمی دھماکے کرنے ہیں تو ان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ’فوجی وردی پہن کر ان کی ٹانگیں لرزتی تھیں اور اس کے مقابلے میں اگر بطور ایک سول حکمران ہم اصولی موقف اختیار نہ کرتے تو پاکستان کبھی ایک ایٹمی طاقت نہ بنتا۔‘ انہوں نے کہا اگر پاکستان جمہوری ٹریک پر رہتا اور پاکستان میں آئینی حکومت رہتی اور فوج اپنی حدود سے تجاوز کرکے سیاست میں داخل نہ ہوتی تودنیا میں کسی کی یہ جرآت نہ ہوتی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی طرف انگلی اٹھاتا۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ بحث عام ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیاہوگا؟ اٹھارہ فروری کے الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں ہونگے؟ اٹھا رہ فروری کے بعد کیا ہوگا؟ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان کی سڑکوں پر اور پارلیمنٹ میں پہنچ کر صدر مشرف کامقابلہ کریں گے اور کوشش کرکے مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کی پارلیمان سے توثیق نہ ہونے دیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے منشور کا اولین نکتہ ہے کہ عدلیہ بحال کی جائے اور سیاست سے پاکستانی فوج کا کردار ختم کیا جائے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر وہی عدلیہ بحال ہوتی ہے تو آئندہ آنے والے مارشل لاء کو خود وہ سنبھالے گی۔ آرٹیکل سکس کا بھی فیصلہ کرے گی اور خود ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ کس نے یہ مارشل لاء لگایا ہے کیوں لگایا ہے اور جس نے لگایا اس کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اسی طریقے سے ہم فوج کا سیاست میں راستہ روک سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے پوری قوم کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ایک فیصلہ پر پہنچنا ہوگا۔ اس میں تاخیر ملک کے لیے بہتر نہیں ہے۔ | اسی بارے میں مشرف تمام مسائل کی جڑ ہیں: نواز07 January, 2008 | پاکستان الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد08 December, 2007 | پاکستان ججوں کی بحالی ضروری: نواز23 December, 2007 | پاکستان نواز شریف اور زرداری کی ملاقات29 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||