بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے اپنے مد مقابل مضبوط امیدواروں کو شکست دے دی ہے جبکہ صوبائی سطح پر بھی کوئٹہ کی چار نشستوں سمیت کل چھ نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتی ہیں۔ اب تک کے نتائج کے مطابق بلوچستان کی سطح پر اگرچہ ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی لیکن پشتون اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے بائیکاٹ کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا ہے ۔دیگر کئی حلقوں پر یا تو جمعیت علماءاسلام فضل الرحمان گروپ کے دونوں دھڑوں کے امیدواروں کے مابین مقابلہ تھا یا جمعیت اور مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو چھیاسٹھ جعفر آباد نصیر آباد پر پیپلز پارٹی کے امیدوار تاج محمد جمالی نے اپنے مد مقابل آزاد امیدوار ظہور کھوسہ کو ہرا دیا ہے۔ اس حلقہ پر گزشتہ انتخابات میں سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا لیکن اپنے بھائی عبدالرحمان جمالی کو مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے لائے تھے۔ عبدالرحمان جمالی اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی ہار گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حلقہ این اے دو سو اڑسٹھ قلات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آیت اللہ درانی نے مجلس عمل کے رہنما غفور حیدری اور نیشنل پارٹی پارلیمنٹیرین کے رہنما سردار ثناءاللہ زہری کو شکست دی ہے۔ مولانا غفور حیدری اور ثناءاللہ زہری اس حلقے پر مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ اس علاقے میں ثناءااللہ زہری صوبائی اسمبلی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ این اے دو سو ساٹھ کوئٹہ چاغی کی سیٹ پر سردار عمر گورگیج نے پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار سردار فتح محمد حسنی کو شکست دی ہے۔ سردار فتح محمد حسنی ماضی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ رہے لیکن صدر پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور ملک واپس آتے ہی مسلم لیگ قائد اعظم میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ این اے دو سو چونسٹھ ژوب قلعہ سیف اللہ سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ میں نظریاتی دھڑے کے رہنما مولوی عصمت اللہ کو برتری حاصل ہے اور ایم ایم اے کے صوبائی رہنما مولانا محمد خان شیرانی کو شکست کا سامنا ہے۔ ادھر این اے دو سو تریسٹھ لورالائی بارکھان سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میر باز محمد کھیتران نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے حلقے میں شدید دھاندلی کی گئی ہے اور ان کے ووٹ ان کے مخالفین کو دیے گئے ہیں۔ اس حلقے سے مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار سردار اسرار ترین کی برتری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ادھر این اے دو سو بہتر سے مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار یعقوب بزنجو کو سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال پر برتری حاصل ہے۔ زبیدہ جلال آزاد امیدوار کے طور انتخابات میں حصہ لے رہی تھیں۔ صوبائی سطح پر اگرچہ مسلم لیگ قائد اعظم کے کوئی دس امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں لیکن ان میں بیشتر امیدوار اپنی قبائلی حیثیت سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ ان میں لورالائی سے سردار مسعود لونی خاران سے کریم نوشیروانی کے بیٹے شعیب نوشیروانی چاغی سے امان اللہ نوتیزئی ژوب سے شیخ جعفر مندوخیل نصیر آباد سے سلیم کھوسہ اور اسلم بھوتانی نمایاں ہیں۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی کے لیے پیپلز پارٹی کے چھ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام کے چار مسلم لیگ قائد اعظم کے دس بلوچستان نیشنل پارٹی کے تین اور نو آزاد امیدوار شامل ہیں۔ | اسی بارے میں پشاور: پولنگ زیادہ تر سست رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 پنجاب: کم ووٹر، بارہ ہلاک18 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ: پولنگ پرامن رہی18 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 مخصوص نشستیں اور خواتین سیاست18 February, 2008 | الیکشن 2008 خواتین ووٹ ڈالنے نہیں نکلیں19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||