سندھ: پولنگ پرامن رہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولنگ کے دن کراچی سمیت صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال مجموعی طور پر تسلی بخش رہی تاہم محکمۂ داخلہ کے مطابق فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں چار افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ حکومت سندھ نے پیر کو انتخابات کے دوران امن وامان کے قیام کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور پورے صوبے میں پولیس، رینجرز اور خصوصی پولیس کے نوے ہزار اہلکاوں کو تعینات کیاگیا تھا۔ صوبائی نگراں حکومت کے وزیرِداخلہ بریگیڈئر ریٹائرڈ اختر ضامن نے امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر قرار دیا اور کہا کہ صوبے میں تشدد کے بعض واقعات ہوئے ہیں جن کے بارے میں تفصلات جمع کی جارہی ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ خیر پور اور شکار پور میں چند واقعات ہوئے ہیں جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا عمل پرامن طور پر مکمل کر لیا گیا ہے اور حکومت کسی کو بھی کسی کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔ صوبے میں مسلح تصادم کے دو واقعات ضلع خیرپور میں پیش آئے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک واقعہ انتخابات کے دوران پیش آیا جب خیرپور کی تحصیل کنگری کے گاؤں احمدپور میں پپلزپارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے حامیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ پھر پولنگ ختم ہونے کے بعد دونوں کے حامیوں کا دوبارہ مسلح تصادم ہوا جس میں مزید دو افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ایک اور واقعہ شکارپور کے محلہ دامن شاہ میں رونماء ہوا جب مسلم لیگ (ق) اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان مسلح تصادم میں مسلم لیگ (ق) کے کارکن حکیم سنجرانی ہلاک ہوگئے جبکہ اسی واقع میں دو افراد زخمی ہوئے۔ محکمۂ داخلہ کے مطابق جیکب آباد میں نامعلوم مقام سے ایک راکٹ فائر کیا گیا جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ ان واقعات کے علاوہ ہلکے تصادم کے پچیس سے تیس واقعات پیش آئے جبکہ کئی علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ پولیس نے بتایا کہ ہلکے تصادم کے واقعات کراچی میں محمودآباد، پی آئی بی کالونی، داؤد چورنگی، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، وغیرہ کے علاقوں میں پیش آئے جبکہ اندرونِ سندھ میں یہ واقعات تھرپارکر، مٹھی، ٹھٹہ، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو کے پی ایس چوہتر، وغیرہ میں رونما ہوئے۔ ان واقعات میں سولہ افراد گولی جبکہ چوبیس افراد ڈنڈے اور لاٹھی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ کراچی کے حلقہ این اے دوسو تریپن کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ سندھی بوائز پرائمری اسکول جمعہ گوٹھ، بھٹائی آباد میں پولنگ ساڑھے پانچ گھنٹے تاخیر یعنی ڈیڑھ بجے شروع کی گئی ہے۔ پریذائڈنگ افسر کے مطابق انہیں گلستانِ جوہر پولیس نے الیکشن کے سامان سمیت متعلقہ پولنگ اسٹیشن کے بجائے پانچ کلومیٹر دور ایسے اسکول میں اتار دیا جہاں پولنگ اسٹیشن ہی نہیں تھا۔ ان کے بقول انہیں بغیر سیکیورٹی کے پولنگ اسٹاف اور انتخابی سامان کو متعلقہ پولنگ تک منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوا جس کے باعث پولنگ شروع ہونے میں تاخیر ہوگئی۔ اس پولنگ اسٹیشن میں اکیس ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن کی ایک بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن پر جمع ہونے کے بعد پولنگ اسٹاف کے خلاف تاخیر سے پہنچنے پر نعرے بازی کررہی ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر سندھی بولنے والوں پر مشتمل ہے اور پپلز پارٹی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبائی حلقہ پی ایس ایک سو انیس کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں پپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی جس کے بعد یہاں ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بوگس ووٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہاں پولنگ بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔ صفورا گوٹھ اور پہلوان گوٹھ کے علاقوں میں پٹھان آبادی زیادہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے ان علاقوں میں پپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں کے حامی پشتو بولنے والے ہیں۔ |
اسی بارے میں سندھ: دھاندلی اور تصادم کے خدشات17 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی عملہ ڈیوٹی سے’خوفزدہ‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’جتنے زیادہ ووٹر دھاندلی اتنی کم‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’الیکشن قوم کو فوج سے لڑانے کو‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||