پنجاب: کم ووٹر، بارہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق الیکشن ڈے پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہے۔ یہ ہلاکتیں سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نارووال، حافظ آباد، گجرات، بہاولنگر اور گوجرانوالہ میں ہوئی ہیں۔ قصور،حافظ آباد جھنگ اور بھکر سے ایک ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں قائم اڑتیس ہزار اکیس پولنگ سٹیشن میں سے صرف تینتس پر پرتشدد واقعات ہوئے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے باوجود حکومت پنجاب نے انتخابات کو مجموعی طور پر پرامن قرار دیا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولنگ کے روز سڑکوں اور پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی تعداد ماضی کی نسبت بہت کم رہی۔ لاہور کی سڑکوں پر بھی دوپہر کے وقت کچھ ٹریفک نظر آئی لیکن صبح اور شام کو سڑکیں عمومی طور پر سنسنان رہیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے سے صرف دس منٹ پہلے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے 147 میں ایک پریزائڈنگ افسر بشریٰ جمیل نے بتایا کہ ان کے پاس 1260 خواتین ووٹرز کی فہرست تھی جن میں سے صرف تین سو کے قریب ووٹرز نے ووٹ دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے بعد سے انہوں نے جتنے بھی عام انتخابات میں پریزائڈنگ افسر کے فرائض سرانجام دیے ان میں اس بار سب سے کم تعداد میں خواتین ووٹرز نے ووٹ ڈالے۔ اس سے قبل لا ہورکے علاقے گوجر پورہ میں گنتی کے دوران ہونے والے جھگڑے میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ صوبائی حلقے پی پی ایک سو باون میں ریکارڈ تیزی کے ساتھ ووٹ بھگتائے گئے۔اس حلقے سے سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ایف سی کالج میں قائم پولنگ سٹیشن کے پریذائڈنگ افسر نے بتایا کہ سہہ پہر تین بجے تک ساٹھ فی صد ووٹ بھگتائے جاچکے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دن دو بجے تک اس حلقہ کے خان کالونی کے پولنگ سٹیشن پر دو ہزار اکیس رجسٹرڈ ووٹوں میں سے سولہ سو سینتالیس ڈالے جا چکے تھے۔ ان پولنگ سٹیشنوں پر سب سے زیادہ ہجوم مسلم لیگ قاف یعنی مونس الٰہی کے پولنگ کیمپوں میں نظر آرہا تھا۔ایف سی کالج میں مسلم لیگ نون کے ایجنٹ فاروق لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی یونین کونسل کا نائب ناظم اندر آکر لوگوں کوسائیکل پرمہر لگانے کی ترغیب دیتے رہے۔ |
اسی بارے میں سندھ: دھاندلی اور تصادم کے خدشات17 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی عملہ ڈیوٹی سے’خوفزدہ‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’جتنے زیادہ ووٹر دھاندلی اتنی کم‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 ’الیکشن قوم کو فوج سے لڑانے کو‘16 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||