BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 19 February, 2008 - Published 00:33 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین ووٹ ڈالنے نہیں نکلیں

پولنگ سٹیشن
’ملک کے حالات کافی خراب ہیں اور ہم چاھتے ہیں کہ اچھا حکمران آئے اسی لیے خوف کے باوجود میں ووٹ دینے آئی ہوں۔‘
پاکستان میں خواتین رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تین کروڑ اکتیس لاکھ سے زائد ہے لیکن ان انتخابات میں خواتین کا مجموعی ٹرن آؤٹ حوصلہ افزا نہیں رہا۔

لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر ایک سو بائیس میں ایک سکول میں قائم پولنگ اسٹیشن کی پرئزائڈنگ آفیسر بشریٰ جمیل نے بتایا کہ انہوں نے کئی انتخابات میں انتخابی ڈیوٹی کی ہے لیکن ماضی کی نسبت ان انتخابات میں ان کے پولنگ اسٹیشن پر خواتین بہت کم تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں۔

انہوں نے پولنگ ختم ہونے کے صرف پندرہ منٹ پہلے بتایا کہ اس پولنگ اسٹیشن پر خواتین ووٹرز کی تعداد1260 تھی اور تین سو سے کم ووٹ ڈالے گیے ہیں۔

ایک خاتون ووٹر خدیجہ نے بتایا کہ انہوں نے ووٹ تو دیا لیکن وہ آنے سے پہلے کافی خوفزدہ تھیں اور ابھی بھی وہ ووٹ ڈال کر جلد واپس جانا چاہ رہیں ہیں تاکہ خیریت سے گھر واپس پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا ’ملک کے حالات کافی خراب ہیں اور ہم چاھتے ہیں کہ اچھا حکمران آئے اسی لیے خوف کے باوجود میں ووٹ دینے آئی ہیں۔‘

لاہور کے ایک پولنگ اسٹیشن پر واشنگٹن سے آئے بین الاقوامی جائزہ کار او مارک کیٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پولنگ اسٹیشنز پر وہ گئے وہاں ووٹرز کی تعداد کم تھی لیکن خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہی۔ او مارک کیٹر کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ لوگ کسی خدشے کے سبب ووٹ دینے کے لیے نہیں آ رہے۔

ملک کے بقیہ شہروں میں بھی صورتحال محتلف نہیں تھی۔

 حیدر آباد میں جو خواتین آئیں وہ زیادہ تر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی نظریاتی ووٹرز تھیں اور بینظیر کی ہلاکت کے سبب پیپلز پارٹی کے لیے خواتین کی ہمدردیاں بڑھی ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی سے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق کراچی میں مرد ووٹرز کے مقابلے میں خواتین کی تعداد نصف رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں خواتین ٹرن آؤٹ پندرہ سے بیس فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔

حیدر آباد سے علی حسن کے مطابق جو خواتین آئیں وہ زیادہ تر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی نظریاتی ووٹرز تھیں اور بینظیر کی ہلاکت کے سبب پیپلز پارٹی کے لیے خواتین کی ہمدردیاں بڑھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر خواتین ووٹرز کی تعداد کم رہی۔

لاڑکانہ میں نثار کھوکھر کے مطابق خواتین کافی کم آئیں اور خواتین نے ٹرن آؤٹ اٹھارہ فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔ لیکن کمبر شہداد کوٹ کے ایک گاؤں گٹ ہر میں ایک دلچسپ صورتحال سامنے آئی۔ اس گاؤں کی خواتین کبھی ووٹ نہیں ڈالتی تھیں لیکن اس بار دو سو خواتین نے اپنے مردوں کے ساتھ ووٹ ڈالے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے لیے ووٹ ڈالنے آئی ہیں۔

پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر چار کے ایک پولنگ اسٹیشن پر امیدواروں نے فیصلہ کیا کہ اس پولنگ اسٹیشن پر خواتین نہیں آئیں گی۔ اس پولنگ اسٹیشن پر خواتین نہیں تھی جبکہ پشاور میں عمومی طور پر بھی خواتین کم تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں۔

کوئٹہ سے عزیز اللہ خان نے بتایا کہ شہر میں خوف کی فضا تھی اس لیے ووٹر اور خاص طور پر خواتین ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم رہی۔انہوں نے بتایا کہ خواتین بوتھ عام طور پر ویران رہے لیکن علم دار روڈ پر ایک پولنگ اسٹیشن پر گہما گہمی تھی لیکن وہاں بھی آدھا دن گزرنے کے بعد تک ایک چوتھائی خواتین نے بھی ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی خواتین مردوں کی نسبتاً کم تعداد میں ووٹ دینےآئیں۔

وفاق کے لیے خطراتوفاق کے لیے خطرات
بینظیر بھٹو کے قتل سے سیاسی سمت بدل گئی ہے
چودھریوں کی مشکل
پی پی پی کے امیدواروں کے لیے ہمدردی
نواز شریفممکنہ سیاسی اتحاد
انتخابات کے بعد سیاسی توڑ جوڑ شروع
خواتین اور سیاست
مخصوص نشستیں اور خواتین
اسی بارے میں
پشاور: پولنگ زیادہ تر سست رہی
18 February, 2008 | الیکشن 2008
ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع
18 February, 2008 | الیکشن 2008
مخصوص نشستیں اور خواتین سیاست
18 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد