آزاد اراکین پر سب کی نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس وقت تک چند نشستوں کو چھوڑ کر قومی اسمبلی کے زیادہ تر حلقوں سے انتخابی نتائج کا اعلان ہو چکا ہے اور حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ شروع ہے۔ اس مرحلہ پر ہندسوں کے گورکھ دھندے میں مصروف سیاسی مبصرین کی تمام تر توجہ آزاد ارکان پر ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ ان کا سیاسی پس منظر کیا ہے؟ جھکاؤ کس پارٹی کی طرف ہے؟ ذیل میں اسی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو چھوڑ کر جہاں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا اور سیاسی پارٹیوں سے منسلک رہنماؤں کو بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑتا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں میں قومی اسمبلی کے انیس حلقوں سے آزاد امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں صوبہ سرحد کا ایک، پنجاب کے تیرہ، سندھ کا ایک اور بلوچستان کے تین حلقے شامل ہیں۔ پنجاب سے منتخب ہونے والوں میں سے تیرہ آزاد ارکان میں سے چند ایک کا تعلق تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم سے ہے، لیکن انہوں نے یا تو کسی مصلحت کی بنا کر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی یا کسی تیکنیکی وجہ سے اپنی پارٹی کا ٹکٹ حاصل نہ کر پائے۔ ضلع صوابی کے حلقے این اے بارہ سے منتخب ہونے والے انجینیئر عثمان ترکئی ضلع ناظم شاہرام خان ترکئی کے چچا ہیں۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی کو شکست دے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ ایک مرحلے پر پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم نے انہیں ٹکٹ جاری کیا تھا لیکن انہوں نے ٹکٹ واپس کر دیا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی۔ پنجاب کے انتہائی شمالی اضلاع میانوالی اور بھکر سے چار ارکانِ اسمبلی آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حلقہ این اے اکہتر سے منتخب ہونے والے نوابزادہ عماد خان نواب آف کالا باغ کے پوتے اور سابق وفاقی وزیر سمیرا ملک کے چچازاد بھائی ہیں جبکہ حلقہ این اے بہتر سے سابق وفاقی وزیر شیر افگن خان نیازی کو شکست دے کر رکن اسمبلی بننے والے حمیر حیات روکھڑی پنجاب کے سابق وزیر گل حمید روکھڑی کی صاحبزادے ہیں۔ ان کی گجرات کے چودھریوں کے ساتھ عزیزداری بھی ہے۔
بھکر کی دونوں نشستوں سے عبدالمجید خانانخیل اور رشید اکبر نوانی کامیاب ہوئے ہیں۔ دونوں کا تعلق پاکستان مسلم لیگ قائداعظم سے ہے اور دونوں ہی نواز لیگ کے مضبوط امیدواروں کو ہرا کر اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ان دونوں کو ہی ابتدائی طور پر ق لیگ کی طرف سے ٹکٹ جاری کیے گئے تھے لیکن دونوں نے ہی سائیکل کی بجائے سلائی مشین کے نشان کے تحت الیکشن لڑنے کو ترجیح دی۔ فیصل آباد کے حلقے این اے اناسی سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے رانا فاروق سعید خان اپنے زمانۂ طالبعلمی سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک چلے آ رہے ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ہی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ سن دو ہزار ایک میں پیپلز پارٹی کے حمایت سے ہی تحصیل ناظم بھی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے دو ہزار دو کا الیکشن بھی پی پی پی کے ٹکٹ پر ہی لڑا تھا اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے صفدر شاکر سے شکست کھائی تھی۔ موجودہ الیکشن کے لیے بھی ابتدائی طور پر انہیں پی پی پی کا ٹکٹ جاری کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان سے ٹکٹ واپس لے لیا گیا تھا۔ جھنگ کے حلقے این نوے سے صائمہ اختر بھروانہ ایک پھر آزاد حیثیت سے رکن اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔ وہ سابق صوبائی وزیر اختر بھروانہ کی صاحبزادی ہیں اور انہوں نے دو ہزار دو میں بھی یہ نشست صاحبزادہ نذیر سلطان کو ہرا کر حاصل کی تھی۔ الیکشن سے پہلے امید یہی تھی کہ انہیں ق لیگ کا ٹکٹ دیا جائے گا لیکن پارٹی قیادت نے صاحبزادہ نذیر سلطان کو اپنا امیدوار نامزد کیا اور صائمہ اختر کو دوبارہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑا۔ گوجرانولہ کے حلقے این اے چھیانوے سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے خرم دستگیر نواز لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر دستگیر خان کے صاحبزادے ہیں اور وہ ٹکٹ جاری ہونے میں تاخیر کی وجہ سے ریٹرننگ افسر سے مسلم لیگ(ن) کا نشان حاصل نہ کر سکے۔ گوجرانوالہ کے حلقے این اے سو سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے مدثر قیوم نارا گزشتہ انتخابات میں بھی آزاد حیثیت سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اسمبلی میں جا کر انہوں نے ق لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور انہیں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا تھا لیکن اس الیکشن کے لیے جب انہوں نے قومی اسمبلی کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تو ان پر چودھری بلال اعجاز کو ترجیح دی گئی۔ ناروال کے حلقہ این اے ایک سو سولہ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے چودھری طارق انیس نےگزشتہ انتخابات بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا اور تعمیر نو بیورو کے چئیرمین دانیال عزیز سے شکست کھائی تھی۔ اٹھاری فروری کو ہونے والے انتخابات میں بھی انہوں نے کسی سیاسی پارٹی کا ٹکٹ لینے کے بجائے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی۔ ضلع ننکانہ صاحب کے حلقے این اے ایک سو سینتیس سے رکن اسمبلی بننے والے سعید ظفر پڈھیار سابق وزیر اعلیٰ منظور وٹو کے دور میں صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ مسلم لیگ جونیجو گروپ کے ٹکٹ کے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اوکاڑہ سے سابق وزیر دفاع راؤ سکندر حیات کو ہرا کر اسمبلی تک پہنچنے والے سجاد الحسن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ اس حلقے میں ابتدائی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی نے چودھری عارف کو ٹکٹ جاری کیا تھا۔ لیکن جب ان کے کاغذات نامزدگی بی اے کی سند جعلی ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیئے گئے اور پارٹی نے ان کے کہنے پر سجاد الحسن کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ تاہم ٹکٹ جاری ہونے میں تاخیر کی وجہ سے ریٹرننگ افسر سے تیر کا نشان حاصل نہ کر سکے۔ اوکاڑہ کے ہی دو حلقوں سے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور احمد وٹو بھی آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے ہیں۔ میاں منظور وٹو کو ق لیگ نے ایک حلقے سے ٹکٹ جاری کیا تھا لیکن دوسری حلقے کے ٹکٹ پر اختلاف کی بنا پر انہوں نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دیا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی۔ بہاولپور کے حلقے این اے این سو چوراسی سے رکن اسمبلی بننے والے ملک عامر یار وارن گزشتہ انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بعد میں پیٹریاٹ گروپ میں شامل ہو کر حکومتی بینچوں پر چلے گئے تھے لیکن جب الیکشن کا وقت آیا تو انہیں ق لیگ نے ٹکٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑا۔ سندھ سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے اکلوتے رکن علی محمد مہر صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں اور مشرف کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ بلوچستان سے جو تین آزاد ارکان منتخب ہوئے ہیں ان میں سے مولوی عصمت اللہ کا تعلق جے یو آئی کے ناراض دھڑے سے اور وہ ایم ایم اے پلیٹ فارم سے لڑنے والے امیدوار کو ہرا کر اسمبلی تک پہنچے ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’کسی سے اتحاد نہیں کریں گے‘19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||